كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ صحيح وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ؟» أَوْ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ»
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں ۔ نماز کو اس کے سب سے بہتر وقت سے مؤخر کرنا مکروہ ہے اور اگر امام نماز میں تاخیر کر دے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے ابو نعامہ نے عبداللہ بن صامت سےاور انھوں نے حضرت ابو ذر سے روایت کی ، کہا : آپ ﷺ نے فرمایا :’’تم لوگوں کا کیا حال ہو گا ‘‘ یا فرمایا :’’تمھاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا ، پھر اگر (تمھاری موجودگی میں )نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ (بھی )پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے ۔‘‘