كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ صحيح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: «إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً»
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں ۔ نماز کو اس کے سب سے بہتر وقت سے مؤخر کرنا مکروہ ہے اور اگر امام نماز میں تاخیر کر دے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے شعبہ نے ابو عمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر سے روایت کی ، کہا :میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں ، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام (ہی حکمران )ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں (آپ ﷺ نے فرمایا :)’’پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انھوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو (وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو )، اور اگر (انھوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے ) تو تمھاری یہ نماز نفل ہو گی ۔‘‘