صحيح مسلم - حدیث 1457

كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1457

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان سفیان بین عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سےاور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتی تھیں ، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور (اندھیرے کی وجہ سے )کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔