كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} [البقرة: 238] وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللهُ، فَنَزَلَتْ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: 238]، " فَقَالَ رَجُلٌ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقِ لَهُ: هِيَ إِذَنْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَالَ الْبَرَاءِ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انھوں نے حضرت براء بن عازب سے روایت کی کہ یہ آیت (اس طرح ) حافظ علی الصلوٰت وصلاۃ العصر )) نازل ہوئی ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا ،پھر اللہ تعالیٰ نے اسےمنسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری:( حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰۃ الوسطیٰ) ’’نمازوں کی نگہداشت کرو اور (خصوصا )درمیان کی نماز کی ‘‘ اس پر ایک آدمی نے ‘ جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان سے کہا : تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی ؟ حضرت براء نے فرمایا : میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا ، (اصل حقیقت )اللہ ہی بہتر جانتا ہے