كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ صحيح وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا»، أَوْ قَالَ: «حَشَا اللهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے حضرت عبداللہ (بن مسعود ) سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مشرکوں نے (جنگ میں مشغول رکھ کر )رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔‘‘ یا فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔‘‘ (ملأ کی جگہ حشا کا لظف ارشاد فرمایا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔) فائدہ :نبی کریم ﷺ کی نظرمیں نماز عصرکی اہمیت کس قدر تھی ، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی ، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا ،دندان مبارک شہید ہوئے ،ستر صحابہ کرام نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء سیدنا حمزہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی ۔ جنگ خندق میں ناز عصرفوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے ۔