كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ صحيح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا»، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں ان کی دلیل جو کہتے ہیں الصلاۃ الوسطیٰ (درمیان کی نماز)عصر کی نماز ہے شتیر بن شکل نےحضرت علی سےروایت کی ، کہا :رسول اللہ ﷺ نےاحزاب کے دن فرمایا : ’’انھوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی )عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔‘‘پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا ۔ (مغرب کا وقت جارہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی ،پھر عصر کی قضا پڑھی ، پھر عشاء پڑھی ۔)