كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ صحيح حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: «الْعَصْرَ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ»
کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں نماز عصر جلدی پڑھنا مستحب ہے حضرت ابو اامامہ بن سہل بیان کرتے ہیں : ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انھیں حاصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں نے پوچھا :چچا جان! یہ کون سی نماز ہےجو آپ نے پڑھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : عصر کی ہے ، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ۔