كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي صحيح حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ. وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلَالٌ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ
کتاب: نماز کے احکام ومسائل نمازی کا سترہ ابو عمیس نے اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحفہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سفیان اور عمرو بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے۔ ان (چاروں سفیان، عمر، ابو عمیس اور مالک) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے: جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی۔