صحيح مسلم - حدیث 1069

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاءِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ اللهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1069

کتاب: نماز کے احکام ومسائل رکوع سے سر اٹھا کر (نمازی) کیا کہے؟ محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ﷜ سے سنا، وہ نبی اکرمﷺ سے بیان کر رہے تھے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔‘‘