كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ثُمَّ مَا صَلَّى بَعْدُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ
کتاب: نماز کے احکام ومسائل صبح کی نماز میں قراءت (امام مالک کے بجائے) سفیان (بن عیینہ)، یونس، معمر اور صالح نے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی اور صالح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: پھر آپ نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا