كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ صحيح حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ. ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِمَّا يُطَوِّلُهَا»
کتاب: نماز کے احکام ومسائل ظہر اور عصر میں قراءت ۔ عطیہ بن قیس نے قزعہ سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی، انہوں نے کہا: ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا، پھر (مسجد میں) آتا اور رسول اللہﷺ اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے۔