كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ التَّوَسُّطِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْإِسْرَارِ، إِذَا خَافَ مِنَ الْجَهْرِ مَفْسَدَةً صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَتْ: أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ
کتاب: نماز کے احکام ومسائل جہری نمازوں میں جب بلند قراءت کی وجہ سے کسی خرابی کا اندیشہ ہو تو جہر اور آہستہ کے مابین درمیانی آواز میں قراءت کرنا یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان: ’’ نہ اپنی نماز میں (قراءت) بلند کریں اور نہ آہستہ‘‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے۔