كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ وَ الْاَشْرِبَةِ بَابٌ حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ مُفَضَّلِ بْنِ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ الْقَاضِي أَبُو أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ زَمْزَمَ فَقَالَ: ((إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍ)) ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرِ إِلَّا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ وَلَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ رَوْحٍ إِلَّا الْمُفَضَّلُ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ
کھانے پینے کا بیان
باب
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زم زم کا ذکر کیا اور فرمایا: ’’وہ بابرکت ہے وہ کھانے کا کھانا ہے اور بیماری کی شفا بھی۔‘‘
تشریح :
(۱) اس حدیث میں آبِ زمزم کی فضیلت کا بیان ہے کہ یہ پانی اپنی خاصیت اور مزاج کے لحاظ سے روئے زمین کے تمام پانیوں سے افضل ہے اور جدید تحقیق سے بھی اس کی یہ خاصیت ثابت ہوچکی ہے۔
(۲) آبِ زمزم مکمل غذا ہے جو پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ خوراک کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور اس میں ہر بیماری کی شفا بھی ہے۔
تخریج :
صحیح ترغیب وترهیب، رقم : ۱۱۶۲۔ سلسلة صحیحة، رقم : ۱۰۵۶۔ مجمع الزوائد: ۳؍۲۸۶۔
(۱) اس حدیث میں آبِ زمزم کی فضیلت کا بیان ہے کہ یہ پانی اپنی خاصیت اور مزاج کے لحاظ سے روئے زمین کے تمام پانیوں سے افضل ہے اور جدید تحقیق سے بھی اس کی یہ خاصیت ثابت ہوچکی ہے۔
(۲) آبِ زمزم مکمل غذا ہے جو پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ خوراک کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے اور اس میں ہر بیماری کی شفا بھی ہے۔