كِتَابُ الجِهَادِ بَابٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَحْفَلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَدْ صَادَ ضَبًّا وَجَعَلَهُ فِي كُمِّهِ يَذْهَبُ بِهِ إِلَى رِحْلَةٍ فَرَأَى جَمَاعَةً فَقَالَ: عَلَى مَنْ هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ فَقَالُوا: عَلَى هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ فَشَقَّ النَّاسُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا اشْتَمَلَتِ النِّسَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَكْذَبَ مِنْكَ وَأَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكَ وَلَوْلَا أَنْ تُسَمِّينِي قَوْمِي عَجُولًا لَعَجِلْتُ عَلَيْكَ فَقَتَلْتُكَ فَسَرَرْتُ بِقَتْلِكَ النَّاسَ أَجْمَعِينَ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَقْتُلْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْحَلِيمَ كَادَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا)) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَآمَنْتُ بِكَ وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَعْرَابِيُّ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ وَقُلْتَ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَمْ تُكْرِمْ مَجْلِسِي؟ قَالَ: وَتُكَلِّمُنِي أَيْضًا اسْتِخْفَافًا بِرَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَآمَنْتُ بِكَ أَوْ يُؤْمِنُ بِكَ هَذَا الضَّبُّ فَأَخْرَجَ الضَّبَّ مِنْ كُمِّهِ وَطَرَحَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنْ آمَنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ آمَنْتُ بِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا ضَبُّ)) فَتَكَلَّمَ الضَّبُّ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ يَفْهَمُهُ الْقَوْمُ جَمِيعًا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَعْبُدُ؟)) قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ وَفِي الْأَرْضِ سُلْطَانُهُ وَفِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ وَفِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ وَفِي النَّارِ عَذَابُهُ، قَالَ: ((فَمَنْ أَنَا يَا ضَبُّ؟)) قَالَ: أَنْتَ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَكَ وَقَدْ خَابَ مَنْ كَذَّبَكَ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَاللَّهِ لَقَدْ أَتَيْتُكَ وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْكَ وَوَاللَّهِ لَأَنْتَ السَّاعَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمِنْ وَالِدِي فَقَدْ آمَنَ بِكَ شَعْرِي وَبَشَرِي وَدَاخِلِي وَخَارِجِي وَسِرِّي وَعَلَانِيَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ إِلَى هَذَا الدِّينِ الَّذِي يَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ وَلَا يَقْبَلُهُ اللَّهُ إِلَّا بِصَلَاةٍ وَلَا يَقْبَلُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ)) فَعَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِيَ الْبَسِيطِ وَلَا فِي الرَّجَزِ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ هَذَا كَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَيْسَ بِشِعْرٍ وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مَرَّةً فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مَرَّتَيْنِ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَيِ الْقُرْآنِ وَإِذَا قَرَأْتَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ)) فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: نِعْمَ الْإِلَهُ إِلَهُنَا، يَقْبَلُ الْيَسِيرَ وَيُعْطِي الْجَزِيلَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطُوا الْأَعْرَابِيَّ)) فَأَعْطَوْهُ حَتَّى أَبْطَرُوهُ فَقَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَهُ نَاقَةً أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دُونَ الْبَخْتِيِّ وَفَوْقَ الْأَعْرَابِيِّ وَهِيَ عُشَرَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكَ قَدْ وَصَفْتَ مَا تُعْطِي وَأَصِفُ لَكَ مَا يُعْطِيكَ اللَّهُ جَزَاءً)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((لَكَ نَاقَةٌ مِنْ دُرٍّ جَوْفَاءُ قَوَائِمُهَا مِنْ زَبَرْجَدِ أَخْضَرَ وَعُنُقُهَا مِنْ زَبَرْجَدِ أَصْفَرَ عَلَيْهَا هَوْدَجٌ وَعَلَى الْهَوْدَجِ السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ تَمُرُّ بِكَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ)) فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ أَلْفُ أَعْرَابِيٍّ عَلَى أَلْفِ دَابَّةٍ بِأَلْفِ رُمْحٍ وَأَلْفِ سَيْفٍ فَقَالَ لَهُمْ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُقَاتِلُ هَذَا الَّذِي يَكْذِبُ وَيَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا لَهُ: صَبَوْتَ؟ فَقَالَ: مَا صَبَوْتُ وَحَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالُوا بِأَجْمَعِهِمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَلَقَّاهُمْ فِي رِدَاءٍ فَنَزَلُوا عَلَى رُكَبِهِمْ يُقَبِّلُونَ مَا وَلَّوْا مِنْهُ وَهُمْ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا: مُرْنَا بِأَمْرِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ((تَدْخُلُوا تَحْتَ رَايَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ)) قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ آمَنَ مِنْهُمْ أَلْفٌ جَمِيعًا إِلَّا بَنُو سُلَيْمٍ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ بِهَذَا التَّمَامِ إِلَّا كَهْمَسٌ وَلَا عَنْ كَهْمَسٍ إِلَّا مُعْتَمِرٌ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى
جہاد کا بیان
باب
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ضبّ کی حدیث بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ بنو سلیم کا اعرابی حاضر ہوا جس نے گوہ کاشکار کر کے اپنی آستین میں اس کو رکھا ہوا تھا اس کو وہ اپنے سفر میں لے جا رہا تھا، اس نے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی تو کہنے لگا یہ جماعت کس شخص پر ہے لوگوں نے کہا یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں تو وہ اعرابی لوگوں کو چیر کر آگے نکل گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم عورتیں تجھ سے زیادہ جھوٹے لہجے والی نہیں ہیں اور تم سے زیادہ بُرا مجھے کوئی نہیں لگتا( نعوذ باللہ) اگر مجھے میری قوم عجول ( عجلت والے) کے نام پر موسوم نہ کرتی تو میں تجھے جلدی سے قتل کر دیتا اور تیرے قتل سے تمام لوگوں کو خوش کر دیتا۔عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ حوصلے والا آدمی قریب ہے کہ نبی بن جائے‘‘ پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا مجھے لات اور عزیٰ کی قسم ہے کہ میں تجھ پر ایمان نہیں لایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اعرابی تجھے اس بات پر کس نے آمادہ کیا کہ تو نے یہ بات کہی اور تو نے ناحق کلام کیا اور تو نے میری مجلس کی عزت نہیں کی اور تو اللہ کے رسول کو ہلکا سمجھتے ہوئے کہہ رہا ہے؟‘‘وہ کہنے لگا: قسم ہے لات اور عزیٰ کی میں تجھ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک یہ گوہ تجھ پر ایمان لائے تو اس نے گوہ اپنی آستین سے نکال کر آپ کے سامنے ڈال دی اور کہنے لگا: اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو میں بھی آپ پر ایمان لے آؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے گوہ! ’’تو گوہ نے عربی زبان میں کلام کیا جس کو تمام لوگ سمجھ رہے تھے کہنے لگی میں حاضر ہوں اور پھر حاضر ہوں اے رب العالمین کے رسول! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو کس چیز کی بندگی کرتی ہے؟‘‘ گوہ کہنے لگی کہ میں اس ذات کی بندگی کرتی ہوں جس کا عرش آسمان میں ہے اور زمین میں اس کی بادشاہی ہے اور سمندر میں اس کا راستہ ہے اور جنت میں اس کی رحمت ہے اور آگ میں اس کا عذاب ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’اے گوہ! بتا میں کون ہوں ؟‘‘ تو وہ کہنے لگی آپ جہانوں کے رب کے رسول ہیں اور خاتم النّبیین ہیں جو آپ کی تصدیق کرے گا وہ کامیاب ہو ا اور جس نے آپ کی تکذیب کی وہ ناکام ہوا۔ اعرابی کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اللہ کی قسم! جب میں آپ کے پاس آیا تھا تو میرے لیے روئے زمین پر آپ سے بُرا شخص کوئی نہیں تھا اللہ کی قسم اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی جان اور اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔ آپ پر میرے بال، میرا جسم، میری جان کا اندرون اور میرا بھید اور میری ظاہری باتیں سب آپ پر ایمان لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سب تعریف اس اللہ کے لیے جس نے تجھے اس دین کی ہدایت دی جو بلند ہوتا ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ جس کو اللہ تعالیٰ بغیر نماز کے قبول نہیں کرتا اور نماز کو بغیر قرآن کے قبول نہیں کرتا۔‘‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورۃ فاتحہ اور سورہ اخلاص سکھا دی۔ تو وہ کہنے لگا ایسا کلام میں نے کبھی سادہ نثر میں سنا اور نہ نظم میں جو اس سے اچھا ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کلام رب العالمین کا ہے یہ شعر نہیں ہے۔ اور جب تو نے ﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ کو ایک دفعہ پڑھا تو گویا کہ تو نے ایک تہائی قرآن پڑھ لی اور جب تو نے سورۃ اخلاص دو دفعہ پڑھ لیا تو گویا کہ دو تہائی قرآن پڑھ لیا اور جب تو نے ﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾تین دفعہ پڑھ لی تو گویا کہ تو نے تمام قرآن مجید پڑھ لیا۔‘‘ اعرابی کہنے لگا ہمارا معبود بہت اچھا ہے وہ تھوڑی چیز بھی قبول کرتا ہے اور زیادہ چیز عنایت فرماتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’اعرابی کو کچھ دے دو‘‘ تو انہوں نے اتنا دیا کہ طاقت سے زیادہ لاد دیا تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اُٹھے کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک اونٹنی دینا چاہتا ہوں جو بختی اونٹ سے ذرا کم اور اعرابی سے اوپر ہو گی اور دس ماہ والی ہو گی تو نے تو وہ بیان کیا جو تم دو گے اب میں بیان کرتا ہوں جو کچھ اللہ تعالیٰ تجھ کو دیں گے انہوں نے کہا فرمائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کشادہ موتی کی اونٹنی جس کے پاؤں سبز زبرجد کے ہوں گے اس کی گردن زرد زبرجد کی ہو گی اس پر ہودج ہو گا ا سکے اوپر سندس اور استبرق ہو گا جو تجھے اٹھا کر پل صراط سے اس طرح پار کر دے گی جس طرح اچک کر لے جانے والی بجلی ہوتی ہے۔‘‘ تو وہ اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گیا تو اس کو ایک ہزار اعرابی ملے جو ایک ہزارچوپایوں پر سوار تھے ان کے پاس ایک ہزار نیزے اور ایک ہزار تلواریں تھیں۔ اس نے انہیں پوچھا تم کہاں جانے کا ارادہ کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم اس جھوٹ کہنے والے سے جنگ کریں گے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس اعرابی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے کہا تو بھی بے دین ہو گیا ہے تو وہ کہنے لگا میں بے دین نہیں ہوا پھر اس نے انہیں اپنا تمام واقعہ سنایا تو سب نے کہا اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ انہیں ایک چادر میں ملے تو وہ اپنی سواریوں سے اتر کر آپ کو چومنے لگے اور کہنے لگے’’ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول! ہمیں اپنا حکم سنائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم خالد بن ولید کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔‘‘ راوی نے کہا عرب میں اس بنو سلیم قبیلہ کے علاوہ کوئی قبیلہ نہیں جس کے اکٹھے ایک ہزار آدمیوں نے ایمان قبول کیا ہو۔
تخریج : معجم الاوسط، رقم : ۵۹۹۶۔ مجمع الزوائد: ۸؍۲۹۴ اسناده ضعیف۔