كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَابٌ وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ))
نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب
اسی (سابقہ ۴۴۶) سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ نرمی والا ہے، وہ نرمی پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو وہ سختی پر عطا نہیں فرماتا۔‘‘
تشریح :
مذکورہ حدیث سے نرمی کی عظمت اور رفعت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ یہ اللہ ذوالجلال کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے کہ اس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں اور اللہ ذوالجلال اتنا سختی پر نہیں دیتا جتنا نرمی پر دیتا ہے۔ منافع اور مصالح کے نقطہ نظر سے بھی اپنے تعلقات اور معاملات میں آدمی کو نرمی اور مہربانی ہی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اسے زینت دار بنا دیتی ہے۔ اور جس سے یہ نکال لی جاتی ہے، اسے عیب دار کر دیتی ہے۔ (مسلم، کتاب البر، رقم : ۲۵۹۴)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ((مَنْ یُّحْرِمُ الرِّفْقَ یُحْرِمُ الْخَیْرَ)) (مسلم، کتاب البروالصلة ، رقم : ۲۵۹۲۔ سنن ابن ماجة، رقم : ۳۶۸۷).... ’’جو شخص نرمی سے محروم رہا، وہ (ہر قسم کی) خیر سے محروم رہا۔‘‘
تخریج :
مسلم، کتاب البروالصلة ، باب فضل الرفق، رقم: ۲۵۹۳۔ سنن ابي داود، کتاب الادب، باب في الرفق، رقم: ۴۸۰۷۔ سنن ابن ماجة، رقم: ۳۶۸۸۔ مسند احمد: ۱؍ ۱۱۲۔
مذکورہ حدیث سے نرمی کی عظمت اور رفعت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ یہ اللہ ذوالجلال کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے کہ اس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں اور اللہ ذوالجلال اتنا سختی پر نہیں دیتا جتنا نرمی پر دیتا ہے۔ منافع اور مصالح کے نقطہ نظر سے بھی اپنے تعلقات اور معاملات میں آدمی کو نرمی اور مہربانی ہی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اسے زینت دار بنا دیتی ہے۔ اور جس سے یہ نکال لی جاتی ہے، اسے عیب دار کر دیتی ہے۔ (مسلم، کتاب البر، رقم : ۲۵۹۴)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ((مَنْ یُّحْرِمُ الرِّفْقَ یُحْرِمُ الْخَیْرَ)) (مسلم، کتاب البروالصلة ، رقم : ۲۵۹۲۔ سنن ابن ماجة، رقم : ۳۶۸۷).... ’’جو شخص نرمی سے محروم رہا، وہ (ہر قسم کی) خیر سے محروم رہا۔‘‘