كِتَابُ التَّهَجُّدِ وَ التَّطوُّعِ بَابٌ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثَةٍ: الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ".
تہجد ونفل نماز کےاحکام ومسائل
باب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے متعلق مجھے وصیت فرمائی: سونے سے پہلے وتر پڑھنا، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا۔‘‘
تشریح :
(۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف وصیتیں فرمائیں۔ ان میں سے چند وصیتیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی فرمائیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی جن کو میں کسی بھی صورت ترک نہیں کروں گا۔ وہ یہ کہ میں وتر ادا کیے بغیر نہ سووں اور میں چاشت کی دو رکعتیں نہ چھوڑوں کیونکہ یہ صلاۃ الاوابین ہے اور ہر ماہ ایام بیض کے تین روزے رکھا کروں۔ (صحیح ابن خزیمة، رقم : ۱۰۸۳)
معلوم ہوا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ اللہ ذوالجلال نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی انہیں صفتوں کی وجہ سے فرمایا: ﴿اِِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذَا دُعُوْا اِِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ (النور: ۵۱).... ’’جب انہیں اس لیے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا اور مان لیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘ مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ وتر نماز عشاء کے بعد سونے سے قبل بھی ادا کیے جا سکتے ہیں اگر صبح نہ اٹھنے کا خدشہ ہو۔
(۲).... نماز چاشت کو نماز اشراق بھی کہتے ہیں۔ سورج نکلنے کے تھوڑی دیر بعد اس کا وقت شروع ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ ہوتا ہے۔ اور ان سب اعضاء (جوڑوں) کا صدقہ نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب صلاة المسافرین: ۷۲۰)
جامع ترمذی میں ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد دو رکعتیں پڑھنے والے کو مکمل حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی، رقم : ۵۸۶ اسناده صحیح)
(۳).... تین روزے ایام بیض کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام بیض کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ہر ماہ تین روزے رکھنا گویا ساری عمر روزے رکھنا ہے۔ اور ایام بیض سے مراد جن دنوں چاند مکمل روشن ہوتا ہے یعنی ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں (چاند کی) تاریخ ہے۔ ( سنن نسائي، کتاب الصیام، رقم : ۲۴۲۲)
تخریج :
السابق۔
(۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف وصیتیں فرمائیں۔ ان میں سے چند وصیتیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی فرمائیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی جن کو میں کسی بھی صورت ترک نہیں کروں گا۔ وہ یہ کہ میں وتر ادا کیے بغیر نہ سووں اور میں چاشت کی دو رکعتیں نہ چھوڑوں کیونکہ یہ صلاۃ الاوابین ہے اور ہر ماہ ایام بیض کے تین روزے رکھا کروں۔ (صحیح ابن خزیمة، رقم : ۱۰۸۳)
معلوم ہوا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ اللہ ذوالجلال نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی انہیں صفتوں کی وجہ سے فرمایا: ﴿اِِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذَا دُعُوْا اِِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ (النور: ۵۱).... ’’جب انہیں اس لیے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا اور مان لیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘ مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ وتر نماز عشاء کے بعد سونے سے قبل بھی ادا کیے جا سکتے ہیں اگر صبح نہ اٹھنے کا خدشہ ہو۔
(۲).... نماز چاشت کو نماز اشراق بھی کہتے ہیں۔ سورج نکلنے کے تھوڑی دیر بعد اس کا وقت شروع ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آدمی کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ ہوتا ہے۔ اور ان سب اعضاء (جوڑوں) کا صدقہ نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔‘‘ (مسلم، کتاب صلاة المسافرین: ۷۲۰)
جامع ترمذی میں ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد دو رکعتیں پڑھنے والے کو مکمل حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی، رقم : ۵۸۶ اسناده صحیح)
(۳).... تین روزے ایام بیض کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام بیض کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ہر ماہ تین روزے رکھنا گویا ساری عمر روزے رکھنا ہے۔ اور ایام بیض سے مراد جن دنوں چاند مکمل روشن ہوتا ہے یعنی ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں (چاند کی) تاریخ ہے۔ ( سنن نسائي، کتاب الصیام، رقم : ۲۴۲۲)