مسند عبد اللہ بن عمر - حدیث 95

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ قَدْ عُطِّلَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَمَّرَ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ»

ترجمہ مسند عبد اللہ بن عمر - حدیث 95

کتاب باب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، مسجد کی بائیں جانب بالکل خالی ہو گئی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے مسجد کی بائیں جانب کو آباد کیا اس کو دگنا ثواب ملے گا۔‘‘
تشریح : صف کی دائیں جانب کھڑا ہونا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھے کام میں دائیں جانب کو مقدم کرتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں ، وضوکرنے، کنگھی کرنے اور جوتے پہننے میں دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔( صحیح بخاري الوضو، باب التیمن في الوضوء والغسل : 168، صحیح مسلم، الطهارة، باب التیمن في الطهور وغیره : 268۔) چونکہ ہرمعاملے میں دائیں جانب کی فضیلت ہے اسی لیے نماز باجماعت میں امام کے دائیں جانب کھڑا ہونا بھی باعث فضیلت ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی مَیَا مِنِ الصُّفُوْفِ))( سنن ابن ماجة ، اقامة الصلاة، باب فضل میمنة الصف : 1005، سنن ابي داؤد، الصلاة، باب من یستحب ان یلی الامام فی الصف : 676۔) ’’بے شک اللہ صفوں میں دائیں جانب والوں پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔‘‘ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہمیں آپ کی دائیں جانب کھڑا ہونا پسند ہوتا تھا۔( صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب یمین الامام : 709۔) ان روایات کاقطعاً یہ مطلب نہیں کہ پہلی صف نامکمل چھوڑ کر دوسری صف شروع کر دی جائے کیونکہ جہاں صف کی دائیں جانب کی فضیلت کو احادیث میں بیان کیا گیا، وہاں صف بندی کی اہمیت اور صف کو ملانے کا بھی تاکید سے تذکرہ ہوا۔ تاہم بائیں جانب کھڑا ہونے کی فضیلت پر مبنی روایت ضعیف ہے۔
تخریج : سنن ابن ماجة ، اقامة الصلوات والسنة فیها، باب فضل میمنة الصف، رقم الحدیث : 1007، محدث البانی نے اسے لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔ صف کی دائیں جانب کھڑا ہونا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اچھے کام میں دائیں جانب کو مقدم کرتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں ، وضوکرنے، کنگھی کرنے اور جوتے پہننے میں دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔( صحیح بخاري الوضو، باب التیمن في الوضوء والغسل : 168، صحیح مسلم، الطهارة، باب التیمن في الطهور وغیره : 268۔) چونکہ ہرمعاملے میں دائیں جانب کی فضیلت ہے اسی لیے نماز باجماعت میں امام کے دائیں جانب کھڑا ہونا بھی باعث فضیلت ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی مَیَا مِنِ الصُّفُوْفِ))( سنن ابن ماجة ، اقامة الصلاة، باب فضل میمنة الصف : 1005، سنن ابي داؤد، الصلاة، باب من یستحب ان یلی الامام فی الصف : 676۔) ’’بے شک اللہ صفوں میں دائیں جانب والوں پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔‘‘ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہمیں آپ کی دائیں جانب کھڑا ہونا پسند ہوتا تھا۔( صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب یمین الامام : 709۔) ان روایات کاقطعاً یہ مطلب نہیں کہ پہلی صف نامکمل چھوڑ کر دوسری صف شروع کر دی جائے کیونکہ جہاں صف کی دائیں جانب کی فضیلت کو احادیث میں بیان کیا گیا، وہاں صف بندی کی اہمیت اور صف کو ملانے کا بھی تاکید سے تذکرہ ہوا۔ تاہم بائیں جانب کھڑا ہونے کی فضیلت پر مبنی روایت ضعیف ہے۔