مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 289

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا الْأَوْزَاعِيُّ، أَنا الزُّهْرِيُّ، أَنا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ وَالٍ وَلَا أَمِيرٍ إِلَّا لَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا فَقَدْ وُقِيَ، وَهُوَ لِلَّذِي يَغْلِبُ مِنْهُمَا))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 289

کتاب باب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بھی کوئی حکمران یا امیر ہو تو ضرور اس کے دو راز دان ہوتے ہیں، ایک رز دان اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور (دوسرا)راز دان اسے کسی قسم کا نقصا ن پہنچانے میں کمی نہیں کرتا، جو اس کے شر سے بچا لیا گیا، یقینا وہی بچایا گیا اور وہی ہے جو ان دونوں میں سے غالب آتا ہے۔
تشریح : (1).... حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس معنی کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آئی ہے: ’’تم میں سے کوئی کسی کام کا والی بنے اور اللہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کر لے تو اس کے لیے نیک وزیر بنا دیتا ہے، اگر وہ بھولے تو اسے یاد دلاتا ہے اور اگر یاد رکھے تو اس کی مدد کرتا ہے۔( فتح الباري: 13؍236۔) (2) .... دو رازد ان: امام ابن تین رحمہ اللہ نے کہا کہ احتمال ہے کہ اس سے دو وزیر مراد ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ فرشتہ اور شیطان مراد ہوں۔ علامہ کرمانی نے کہا کہ احتمال ہے کہ نفس امارہ (جو برائی پر ابھارتا ہے)اور نفس لوامہ (جو خیر کی ترغیب دینے والا ہو)مراد ہے۔اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے قوت ملکی اور قوت حیوانی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام پر محمول کرنا جائز ہے الا یہ کہ ان کے بعض کے لیے صرف بعض ہو۔ اور محب طبری رحمہ اللہ نے کہا کہ راز دان سے مراد دوست اور خاص لوگ ہیں، اور ’’بطانة‘‘ مصدر ہے جسے اسم کی جگہ رکھا گیا ہے وہ ایک دو اورجمع، مذکر، مونث سب پر بولاجاتا ہے۔( فتح الباري: 13؍236۔) (3) .... حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک تیسری قسم بھی ہے، یعنی وہ حاکم جو خیر والے راز دان کی بات قبول کرتا ہے اور شر والے کی قبول نہیں کرتا، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق ہے اس لیے حدیث کے آخر میں ہے: ((فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ تَعَالَی)) (بخاري مع الفتح : 13؍234، رقم 7196۔) ’’اور معصوم وہی ہے جسے اللہ بچا ئے۔‘‘ آخر مسند ابن المبارك والحمد للّٰه رب العالمین وصلی اللّٰه سیدنا محمد وسلم تسلیمًا إلی یوم الدین۔
تخریج : صحیح بخاري، الأحکام : 13؍161، القدر : 11؍425، مسند احمد : 2؍237، 289۔ (1).... حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس معنی کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آئی ہے: ’’تم میں سے کوئی کسی کام کا والی بنے اور اللہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کر لے تو اس کے لیے نیک وزیر بنا دیتا ہے، اگر وہ بھولے تو اسے یاد دلاتا ہے اور اگر یاد رکھے تو اس کی مدد کرتا ہے۔( فتح الباري: 13؍236۔) (2) .... دو رازد ان: امام ابن تین رحمہ اللہ نے کہا کہ احتمال ہے کہ اس سے دو وزیر مراد ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ فرشتہ اور شیطان مراد ہوں۔ علامہ کرمانی نے کہا کہ احتمال ہے کہ نفس امارہ (جو برائی پر ابھارتا ہے)اور نفس لوامہ (جو خیر کی ترغیب دینے والا ہو)مراد ہے۔اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے قوت ملکی اور قوت حیوانی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام پر محمول کرنا جائز ہے الا یہ کہ ان کے بعض کے لیے صرف بعض ہو۔ اور محب طبری رحمہ اللہ نے کہا کہ راز دان سے مراد دوست اور خاص لوگ ہیں، اور ’’بطانة‘‘ مصدر ہے جسے اسم کی جگہ رکھا گیا ہے وہ ایک دو اورجمع، مذکر، مونث سب پر بولاجاتا ہے۔( فتح الباري: 13؍236۔) (3) .... حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک تیسری قسم بھی ہے، یعنی وہ حاکم جو خیر والے راز دان کی بات قبول کرتا ہے اور شر والے کی قبول نہیں کرتا، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق ہے اس لیے حدیث کے آخر میں ہے: ((فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ تَعَالَی)) (بخاري مع الفتح : 13؍234، رقم 7196۔) ’’اور معصوم وہی ہے جسے اللہ بچا ئے۔‘‘ آخر مسند ابن المبارك والحمد للّٰه رب العالمین وصلی اللّٰه سیدنا محمد وسلم تسلیمًا إلی یوم الدین۔