كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ، أَوْ حَوَاشٍ، مِنَ النَّاسِ يَظْلِمُونَ ويَكْذِبُونَ، فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بَكَذِبِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بَكَذِبِهِمْ وَيُعِينُهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ مِنِّي))
کتاب
باب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عن قریب ایسے حکمران ہوں گے، جنہیں لوگوں میں سے حاشیہ نشین اور دوست احباب گھیر لیں گے، وہ ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، جس نے ان کے ظلم پر ان کی مدد کی اور ان کے جھوٹ کے باوجود انہیں سچا کہا تو وہ مجھ سے نہیں اور نہ ہی میں اس سے ہوں اور جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہ کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو میں اس سے ہوں اور وہ مجھ سے ہے۔
تشریح :
(1).... ایسے حکمرانوں کا ظلم بندوں کے حقوق میں اور اللہ کے حق میں بھی ہو گا۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ انہیں اور چیزیں مشغول کر دیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے۔( سنن ابن ماجة: 1257۔)
(2) .... لوگوں پر ظلم اور جھوٹ بولنے کی ایک وجہ ان کے برے مصاحبین و متعلقین اور جان پہچان والے لوگ ہوں گے۔ وزیر و مشیر برے اورنااہل ہوں تو ملک کا نظام صحیح نہیں چل سکتا۔
(3) .... نمازوں کو موخر کرنے والے قابل گرفت ہیں تو جو حکمران نماز پڑھتے ہی نہیں ان کا حال کیا ہوگا!
تخریج :
جامع ترمذي: 614، صحیح ابن حبان (الموارد)379، مجمع الزوائد، هیثمي: 5؍246، سنن ابن ماجة: 1257، مستدرك حاکم : 1؍78، 79، 4؍127، طبراني صغیر : 1؍154، 224، حلیة الأولیاء، ابو نعیم : 7؍249، تاریخ بغداد : 5؍362، صحیح الترغیب والترهیب : 2246۔
(1).... ایسے حکمرانوں کا ظلم بندوں کے حقوق میں اور اللہ کے حق میں بھی ہو گا۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ انہیں اور چیزیں مشغول کر دیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے۔( سنن ابن ماجة: 1257۔)
(2) .... لوگوں پر ظلم اور جھوٹ بولنے کی ایک وجہ ان کے برے مصاحبین و متعلقین اور جان پہچان والے لوگ ہوں گے۔ وزیر و مشیر برے اورنااہل ہوں تو ملک کا نظام صحیح نہیں چل سکتا۔
(3) .... نمازوں کو موخر کرنے والے قابل گرفت ہیں تو جو حکمران نماز پڑھتے ہی نہیں ان کا حال کیا ہوگا!