كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: ((لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَبَدًا))، وَقَالَ لِلَآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ، لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ))
کتاب
باب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجااور ان پر ایک آدمی کو امیر مقرر فرمایا، اس نے آگ جلائی اور کہا: اس میں داخل ہوجاؤ، کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا: اسی (آگ)سے تو ہم بھاگے ہیں، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیاتھا،فرمایا: ’’اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو قیامت کے دن تک ہمیشہ اس میں رہتے۔ اور دوسروں کے لیے اچھی بات کہی یا فرمایا: ’’تم نے اچھا کیا، اللہ کی نافرمانی میں کسی کی بھی اطاعت نہیں ہے، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔‘‘
تشریح :
(1).... امیر اور حکمران کی اطاعت نیکی میں ہے اگرچہ جان پر مشقت اور گراں بار ہو اور اگر معصیت کا حکم دے تو پھر کوئی سمع و اطاعت نہیں ہے۔
(2) .... اس امیر نے جو کچھ کیا کہاجاتا ہے کہ اس کا ارادہ ان کا امتحان لینے کا تھا اور دوسرا قول ہے کہ وہ مزاح کر رہا تھا۔( شرح صحیح مسلم : 2؍125۔)
(3) .... امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہاجاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ تھے، لیکن یہ ضعیف ہے۔ کیوں کہ اس (راوی)نے بعد والی روایت میں کہا ہے کہ وہ انصار میں سے ایک آدمی تھا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کوئی اور تھا۔( شرح صحیح مسلم : 2؍125۔)
تخریج :
صحیح مسلم : الامارة : 12؍226، صحیح ابن حبان : (المورد)373۔
(1).... امیر اور حکمران کی اطاعت نیکی میں ہے اگرچہ جان پر مشقت اور گراں بار ہو اور اگر معصیت کا حکم دے تو پھر کوئی سمع و اطاعت نہیں ہے۔
(2) .... اس امیر نے جو کچھ کیا کہاجاتا ہے کہ اس کا ارادہ ان کا امتحان لینے کا تھا اور دوسرا قول ہے کہ وہ مزاح کر رہا تھا۔( شرح صحیح مسلم : 2؍125۔)
(3) .... امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کہاجاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ تھے، لیکن یہ ضعیف ہے۔ کیوں کہ اس (راوی)نے بعد والی روایت میں کہا ہے کہ وہ انصار میں سے ایک آدمی تھا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کوئی اور تھا۔( شرح صحیح مسلم : 2؍125۔)