مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 280

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبرَهُ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى، أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: ((فِي الْفِتْنَةِ لَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا)) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 280

کتاب باب محمد بن یحییٰ بن حیان نے بیان کیا کہ بے شک ایک آدمی نے اسے اس کے والد یحییٰ سے بیان کیا کہ بے شک وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: تم فتنے میں قتل کو کوئی چیز نہیں سمجھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’دو آدمی، ایک کو چھوڑ کر، باہم سرگوشی نہ کریں۔‘‘
تشریح : یعنی اگر دو آدمی سرگوشی کریں تو تیسرا بدگمان ہوگااور اس کی عزت نفس مجروح ہوگی، جب اتنی سی بات سے شریعت نے منع کر دیا ہے تو قتل تو اس کے مقابلے میں بہت بڑی بات ہے، لیکن فتنوں میں قتل کو تم معمولی سمجھو گے، جیساکہ پیچھے ذکر ہوا کہ قتل و غارت عام ہوجائے گی، یا یہ مطلب ہے کہ اگر دوآدمیوں کا سرگوشی کرنا اور تیسرے کو چھوڑ دینا،معمولی نہیں تو فتنوں میں قتل تو اور بھی سنگین ہے۔ واللہ اعلم
تخریج : صحیح بخاري: 6288، مسند أحمد : 2؍9، 43، 45، موطا : 4؍407، سنن ابوداؤد، الأدب : 13؍119، مسند طیالسي: 2؍50، طبراني صغیر : 2؍9، صحیح ابن حبان : 1؍482، الأدب المفرد، بخاري : 2؍601، 602۔ 555، سنن بیهقي: 3؍232، 544، تاریخ بغداد : 11؍265، حلیة الأولیاء، ابو نعیم : 7؍128، 364، المقاصد الحسنۃ سخاوی : 44۔ یعنی اگر دو آدمی سرگوشی کریں تو تیسرا بدگمان ہوگااور اس کی عزت نفس مجروح ہوگی، جب اتنی سی بات سے شریعت نے منع کر دیا ہے تو قتل تو اس کے مقابلے میں بہت بڑی بات ہے، لیکن فتنوں میں قتل کو تم معمولی سمجھو گے، جیساکہ پیچھے ذکر ہوا کہ قتل و غارت عام ہوجائے گی، یا یہ مطلب ہے کہ اگر دوآدمیوں کا سرگوشی کرنا اور تیسرے کو چھوڑ دینا،معمولی نہیں تو فتنوں میں قتل تو اور بھی سنگین ہے۔ واللہ اعلم