كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ))
کتاب
باب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمانوں کا بہترین مال، بکریاں ہوں گی، وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات کے گرنے کی جگہوں پر ان کے پیچھے چلے گا، اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگے گا۔
تشریح :
مومن کا سب سے قیمتی گوہر گراں مایہ اس کا ایمان ہے۔ فتنوں کے زمانے میں وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر سانس کی ڈوری کو جاری رکھنے کے لیے بکریوں سے بہتر کوئی چیز نہ پائے گا، اور انہیں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں کا رخ کرے گا۔ وہ سب کچھ لٹا کر بھی ایمان بچائے گا۔
کرتی ہے دو عالم سے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے یہ لذت آشنائی
تخریج :
صحیح بخاري: 19۔
مومن کا سب سے قیمتی گوہر گراں مایہ اس کا ایمان ہے۔ فتنوں کے زمانے میں وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر سانس کی ڈوری کو جاری رکھنے کے لیے بکریوں سے بہتر کوئی چیز نہ پائے گا، اور انہیں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں کا رخ کرے گا۔ وہ سب کچھ لٹا کر بھی ایمان بچائے گا۔
کرتی ہے دو عالم سے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے یہ لذت آشنائی