مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 276

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ، يَقُولُ: مَا بِي بَأْسٌ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ((ولَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ: أَبُوءُ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 276

کتاب باب ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس چارپائی والے کو سنا، وہ کہہ رہا تھا،مجھے کوئی حرج نہیں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، البتہ اگر تم لڑو گے تو میں ضرور اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور البتہ اگر مجھے پر داخل ہوا گیا تو میں ضرور کہوں گا کہ آؤ اور لوٹ میرے گناہ کے ساتھ اور اپنے گناہ کے ساتھ۔
تشریح : یہ وہی تعلیم ہے جو فتنوں سے محفوظ رہنے کے متعلق سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمائی گئی جیسا کہ حدیث نمبر (260)میں گزر چکا ہے۔
تخریج : مسند أحمد : 23307، مجمع الزوائد،ہیثمی : 7؍301۔ علامہ ہیثمی اور شیخ شعیب نے کہا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے ایک کے کہ وہ راوی مبہم ہے۔ یہ وہی تعلیم ہے جو فتنوں سے محفوظ رہنے کے متعلق سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمائی گئی جیسا کہ حدیث نمبر (260)میں گزر چکا ہے۔