مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 269

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، نَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مَنْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: أَمَا إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ ((رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ شَتْمِ الْهَلْكَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 269

کتاب باب قطبہ بن مالک نے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: علی بن ابی طالب کون ہیں ؟ تو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سنیں ! یقینا آپ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت شدگان کو برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے تو آپ علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں، حالاں کہ وہ فوت ہوچکے ہیں۔
تشریح : اجتہادی خطا اور اختلاف رائے سے فریقین نے ایک دوسرے کے بارے سخت الفاظ اور درشت کلمات کا تبادلہ کیا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیر ہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو حدیث پاک یاد دلائی تو وہ فوراً خاموش ہو گئے۔ اس سے آگے ایک لفظ بھی نہیں کہا، شان صحابہ رضی اللہ عنہم یہی ہے۔ مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو ادھر فرمانِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)ہو ادھر گردن جھکائی ہو
تخریج : مسند أحمد : 19288، حلیة الأولیاء، ابو نعیم : 7؍236، مجمع الزوائد، ہیثمی : 8؍76۔ شیخ شعیب نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ اجتہادی خطا اور اختلاف رائے سے فریقین نے ایک دوسرے کے بارے سخت الفاظ اور درشت کلمات کا تبادلہ کیا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیر ہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو حدیث پاک یاد دلائی تو وہ فوراً خاموش ہو گئے۔ اس سے آگے ایک لفظ بھی نہیں کہا، شان صحابہ رضی اللہ عنہم یہی ہے۔ مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو ادھر فرمانِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)ہو ادھر گردن جھکائی ہو