كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: قُلْنَا لِعَمَّارٍ: أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ، أَرَأْيٌ رَأَيْتُمُوهُ؟ فَإِنَّ الرَأْيَ يُخْطِئُ وَيُصْيبُ، أَوْ عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: ((مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً))
کتاب
باب
قیس بن عباد نے بیان کیا کہ ہم نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا اپنی لڑائی کے بارے میں کیا خیال ہے، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے قائم کی ہے، بے شک رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور درست بھی یا کوئی عہد ہے جو عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: ایسی کسی چیز کا عہد ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا، جو باقی تمام لوگوں سے نہ کیا ہو۔
تشریح :
یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ان باہمی جنگوں کا سبب اختلاف رائے قرار دیا۔ ملکی سیاست میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی آراء کا مختلف ہوجانا عین انسانی و بشری تقاضا ہے۔ ان مشاجرات کو ہوا دینا اور ان میں مذہبی رنگ پیدا کرنا جیسا کہ عصر حاضر کے کئی نام نہاد دانشوروں اور قلم کاروں نے کیا ہے اور ان نفوس قدسیہ کی شان بلند میں قدغن لگانے کی جسارت ہے۔ عدل و انصاف اور عقل سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان حوادثات کو اس نظر سے دیکھا جائے جس انداز فکر سے خیر القرون میں دیکھا گیا۔ فتنہ گری کے نئے نئے زاویۂ فکر و نظر مت تراشے جائیں۔
تخریج :
صحیح مسلم : 2779۔
یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ان باہمی جنگوں کا سبب اختلاف رائے قرار دیا۔ ملکی سیاست میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی آراء کا مختلف ہوجانا عین انسانی و بشری تقاضا ہے۔ ان مشاجرات کو ہوا دینا اور ان میں مذہبی رنگ پیدا کرنا جیسا کہ عصر حاضر کے کئی نام نہاد دانشوروں اور قلم کاروں نے کیا ہے اور ان نفوس قدسیہ کی شان بلند میں قدغن لگانے کی جسارت ہے۔ عدل و انصاف اور عقل سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان حوادثات کو اس نظر سے دیکھا جائے جس انداز فکر سے خیر القرون میں دیکھا گیا۔ فتنہ گری کے نئے نئے زاویۂ فکر و نظر مت تراشے جائیں۔