كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، ذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ فِي أَرْضٍ لَهُ مُعْتَزِلٍ، فَقَالَ: يَا أَبَتَاهُ، لَمْ يَبْقَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ غَيْرُكَ، وَلَا مِنْ أَهْلِ الشُّورَى غَيْرُكَ، فَلَوْ أَنَّكَ ابْتَغَيْتَ بِنَفْسِكَ نَصَبْتَهَا للنَّاسِ مَا اخْتَلَفَ عَلَيْكَ اثْنَانِ، فَقَالَ: لِهَذَا جِئْتَ؟ أَيْ بُنَيَّ، أَفَعَمِدْتَ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مَنْ أَحَكِي إِلَّا مِثْلَ طَمَى الدَّابَّةِ، ثُمَّ أَخْرُجُ فَأَضْرِبُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعضَهَا بِبَعْضٍ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: ((إِنَّ خَيْرَ الرَّزْقِ مَا يَكْفِي، وَخَيْرَ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ))
کتاب
باب
محمد بن ابی عبد الرحمن بن لبیبہ نے بیان کیا کہ بے شک عمر بن سعد اپنے باپ (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ )کے پاس گیا، جو عقیق میں اپنی علیحدہ زمین پر موجود تھے اور کہا: اے ابا جان! اصحاب بدر اور اہل شوریٰ میں سے آپ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ اگر بے شک آپ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو اٹھائیں اور لوگوں کے لیے خود کو کھڑا کریں، تو دو آدمی بھی آپ پر اختلاف نہیں کریں گے، انہوں نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے! میں اس کا جواب دوں گا، میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ جب میری زندگی چوپائے کے تیزی سے گزرنے جتنی رہ گئی ہے، پھر میں نکلوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بعض کو بعض سے لڑا دوں۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کر جائے اور سب سے بہتر ذکر، مخفی ہے۔
تشریح :
شہادت ذی النورین رضی اللہ عنہ کے بعد، جس طرح محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ آئے، جیساکہ حدیث نمبر 262 میں ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا بیٹا آیا اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں، جب وہ آرہا تھا تو سعد رضی اللہ عنہ نے آتا دیکھ کر فرمایا: ’’میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ ان کے بیٹے عمر نے اترتے ہی کہا کہ آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں میں کیوں آگئے اور لوگوں کو بادشاہت کی چھینا جھپٹی میں چھوڑدیا؟ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر مارا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسندکرتا ہے جو متقی، دل کا غنی اور پوشیدہ ہو۔ (مسلم مع شرحہ : 2؍408۔)
تخریج :
صحیح مسلم، الزھد : 18؍100، رقم : 11، صحیح ابن حبان : 2؍125 (الموارد)577، مسند أحمد (الفتح الرباني ): 19؍125، المقاصد الحسنة، سخاوي: 206۔
شہادت ذی النورین رضی اللہ عنہ کے بعد، جس طرح محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ آئے، جیساکہ حدیث نمبر 262 میں ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا بیٹا آیا اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں، جب وہ آرہا تھا تو سعد رضی اللہ عنہ نے آتا دیکھ کر فرمایا: ’’میں اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ ان کے بیٹے عمر نے اترتے ہی کہا کہ آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں میں کیوں آگئے اور لوگوں کو بادشاہت کی چھینا جھپٹی میں چھوڑدیا؟ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر مارا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسندکرتا ہے جو متقی، دل کا غنی اور پوشیدہ ہو۔ (مسلم مع شرحہ : 2؍408۔)