مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 263

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنٌ كَأَنَّهَا قِطَعُ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ويُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ خَلَاقَهُمْ فِيهَا بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا يَسِيرٍٍ أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 263

کتاب باب سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک قیامت سے پہلے ایسے فتنے ہوں گے،گویا وہ اندھیری رات کے ٹکڑے ہوں، آدمی ان میں صبح مومن ہوگا اور شام کافر اور شام کومومن ہوگا تو صبح کافر، لوگ اپنا حصہ (دین)دنیا کے معمولی سامان کے بدلے بیچ دیں گے یا (فرمایا)دنیا کے سامان کے بدلے۔
تشریح : دین فروشی اور دین کے بدلے دنیا کے مال و منال کا حصول یقینا بہت بڑا فتنہ ہے۔ قرب قیامت ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے، بلکہ بقول جناب حسن انہوں نے ایسے لوگ دیکھے بھی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
تخریج : صحیح مسلم : 118، مستدرك حاکم : 3؍531، مسند أحمد (الفتح الرباني )24؍17، مجمع الزوائد،هیثمي : 7؍309۔ دین فروشی اور دین کے بدلے دنیا کے مال و منال کا حصول یقینا بہت بڑا فتنہ ہے۔ قرب قیامت ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے، بلکہ بقول جناب حسن انہوں نے ایسے لوگ دیکھے بھی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔