كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((إِنَّهَا سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وفِتَنٌ وأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا)) . فَقَالُوا: فَمَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ))
کتاب
باب
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک قصہ یہ ہے کہ عن قریب خود غرضی، فتنے اور ایسے امور ہوں گے، جن کا تم انکار کرو گے،ا نہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو یہ پائے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں ؟فرمایا کہ تم وہ حق ادا کرنا جو تم پر ہے اور جو تمہارا حق ہے وہ تم اللہ سے مانگنا۔
تشریح :
(1).... یہ اور اس طرح کی باقی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہرمعجزات ہیں کیوں کہ یہ سب کچھ بار ہا ہو چکا ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی۔
(2) .... حاکم کے ظالم و فاسق ہونے کے باوجود سمع و طاعت کی ترغیب ہے، اس کا حق اطاعت اسے دیا جائے اور اس کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کیا جائے بلکہ اس کی تکلیف کے خاتمے اور شر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور تضرع و زاری کی جائے اور اس کی اصلاح کے لیے رغبت کی جائے۔ ( شرح صحیح مسلم 2؍126۔)
تخریج :
صحیح بخاري، الفتن : 13؍4، صحیح مسلم،ا لإمارة : 12؍232، رقم : 45، مسند أحمد (الفتح الرباني )23؍28، طبراني صغیر : 2؍80، حلیة الأولیاء، ابو نعیم : 4؍146، 5؍57، 7؍131۔
(1).... یہ اور اس طرح کی باقی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہرمعجزات ہیں کیوں کہ یہ سب کچھ بار ہا ہو چکا ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی۔
(2) .... حاکم کے ظالم و فاسق ہونے کے باوجود سمع و طاعت کی ترغیب ہے، اس کا حق اطاعت اسے دیا جائے اور اس کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کیا جائے بلکہ اس کی تکلیف کے خاتمے اور شر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور تضرع و زاری کی جائے اور اس کی اصلاح کے لیے رغبت کی جائے۔ ( شرح صحیح مسلم 2؍126۔)