كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((أُمْرِتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا، فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ))
کتاب
باب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے لڑائی کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پس جب وہ کہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہوں نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہماری نماز پڑھی تو یقینا ہم پر ان کے خون اور مال حرام ہوگئے، سوائے ان کے حق کے، ان کے لیے وہ (حقوق)ہیں جو مسلمانوں کے لیے ہیں اور ان پر وہ (فرائض)ہیں جو ان (باقی مسلمانوں )پر ہیں۔
تشریح :
اسلام کو جان، مال اور عزت کے بچاؤ کی وجہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ان کے تحفظ کا اصل سبب مسلمان ہونا ہے سو جو اسلام کو نہ اپنائے یا اسلامی بنیادی تعلیما ت کا انکار کرے، جیسا کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ ان کو یہ تحفظ نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کیا اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوبکر آپ لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور حدیث مذکورہ بالا بیان فرمائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’واللّٰه لأقاتلن من فرق بین الصلاة والزکٰوة فإن الزکوٰة حق المال واللّٰه، لو منعونی عقالا کانوا یؤدونه إلی رسول اللّٰه صَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لقاتلتهم علی منعه‘‘(تحفة الأحوذي : 3؍351۔)
’’اللہ کی قسم! میں اس کے ساتھ ضرو ر بالضرور قتال کروں گا، جس نے نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کیا۔ بے شک زکاۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو یقینا میں اس کو روکنے پر بھی ان سے لڑائی کروں گا۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہاں اس بات کی دلیل پیش کی ہے کہ نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں ہے، کیوں کہ نماز جان کا حق ہے اور زکوٰۃ مال کا حق ہے، جس نے نماز پڑھی، اس نے جان بچالی اور جس نے زکوٰۃ دی اس نے اپنا مال بچا لیا۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو اس کے ترک صلوۃ پر اس سے قتال کیا جائے گا اورجو زکوۃ نہیں دے گا، اس کے مال سے جبراً زکوۃ لی جائے گی اور اگر وہ اس پر جنگ کھڑی کرے گا تو اس سے قتال کیا جائے گا۔( تحفة الأحوذي : 3؍351۔)
تخریج :
صحیح بخاري: 393، حلیة الأولیاء، ابو نعیم : 8؍173، تاریخ بغداد : 10؍464، التلخیص الحبیر، ابن حجر : 4؍25۔
اسلام کو جان، مال اور عزت کے بچاؤ کی وجہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ان کے تحفظ کا اصل سبب مسلمان ہونا ہے سو جو اسلام کو نہ اپنائے یا اسلامی بنیادی تعلیما ت کا انکار کرے، جیسا کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ ان کو یہ تحفظ نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کیا اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوبکر آپ لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور حدیث مذکورہ بالا بیان فرمائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’واللّٰه لأقاتلن من فرق بین الصلاة والزکٰوة فإن الزکوٰة حق المال واللّٰه، لو منعونی عقالا کانوا یؤدونه إلی رسول اللّٰه صَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لقاتلتهم علی منعه‘‘(تحفة الأحوذي : 3؍351۔)
’’اللہ کی قسم! میں اس کے ساتھ ضرو ر بالضرور قتال کروں گا، جس نے نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کیا۔ بے شک زکاۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو یقینا میں اس کو روکنے پر بھی ان سے لڑائی کروں گا۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہاں اس بات کی دلیل پیش کی ہے کہ نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں ہے، کیوں کہ نماز جان کا حق ہے اور زکوٰۃ مال کا حق ہے، جس نے نماز پڑھی، اس نے جان بچالی اور جس نے زکوٰۃ دی اس نے اپنا مال بچا لیا۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو اس کے ترک صلوۃ پر اس سے قتال کیا جائے گا اورجو زکوۃ نہیں دے گا، اس کے مال سے جبراً زکوۃ لی جائے گی اور اگر وہ اس پر جنگ کھڑی کرے گا تو اس سے قتال کیا جائے گا۔( تحفة الأحوذي : 3؍351۔)