مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 253

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ أَتَى الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى فَصَلَّى فِيهِ، فَلَحِقَهُ نَاسٌ يَمْشُونَ مَعَهُ، فَقَالَ: مَا جَاءَكُمْ؟ قَالُوا: لِصُحْبَتِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْنَا لِنُسَلِّمَ عَلَيْكَ وَلِنَسْمَعَ مِنْكَ. قَالَ: أَنْزِلُوا فَصَلُّوا. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَمْ يَتَنَدَّ مِنَ الدِّمَاءِ الْحَرَامِ بِشَيْءٍ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 253

کتاب باب عبد الرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں کہ بے شک سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسجد اقصیٰ میں آئے اور اس میں نماز پڑھی،ا نہیں کچھ لوگ ملے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگے، انہوں نے کہا کہ تم کیسے آئے؟ کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ہے، ہم آئے ہیں تاکہ آپ کو سلام کہیں اور آپ سے سنیں۔ فرمایا کہ اتر و اور نماز پڑھو، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو مرا اور کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ بنایا اور حرام خونوں میں سے کسی چیز کو نہ بہایا، وہ جنت میں، جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے گا، داخل ہوجائے گا۔
تشریح : اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت بیان ہوئی ہے جو نہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرتا ہے اور نہ ہی بندوں کے حق میں۔ نہ وہ شرک کرتا ہے اور نہ ہی قتل اور اسی حالت میں اسے موت آتی ہے تو اسے وہ عظیم فضیلت ملے گی جو حدیث پاک میں بیان ہوئی ہے۔
تخریج : مسند أحمد : 4؍152، المستدرك حاکم : 8034۔ اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت بیان ہوئی ہے جو نہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرتا ہے اور نہ ہی بندوں کے حق میں۔ نہ وہ شرک کرتا ہے اور نہ ہی قتل اور اسی حالت میں اسے موت آتی ہے تو اسے وہ عظیم فضیلت ملے گی جو حدیث پاک میں بیان ہوئی ہے۔