كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ((أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَقْتَتِلُوا بَعْدِي))
کتاب
باب
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں اور بے شک میں تمہاری کثرت کے سبب امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ سو تم میرے بعد قطعاً مت لڑنا۔
تشریح :
مسلمانوں کی باہمی لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت،فتنوں میں سے ہے، دشمن ہمیں آپس میں الجھانا چاہتا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے۔ کبھی مذہبی بنیاد پر، فرقہ بندیوں میں جکڑ کر، لڑاتا ہے اور کبھی کوئی محاذ کھڑا کر کے مرواتا ہے۔ از بس لازم ہے کہ مسلمان محبت و مودت اور بغض و عناد کے متعلق اصولی موقف سمجھیں اور اسے اختیار کریں :
﴿ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ (الفتح : 29)
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
تخریج :
صحیح بخاري، الرقاق : 11؍395، الفتن : 13؍3، سنن ابن ماجة: 3944، مسند احمد : 4؍351، صحیح ابن حبان : (الموارد)459۔
مسلمانوں کی باہمی لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت،فتنوں میں سے ہے، دشمن ہمیں آپس میں الجھانا چاہتا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے۔ کبھی مذہبی بنیاد پر، فرقہ بندیوں میں جکڑ کر، لڑاتا ہے اور کبھی کوئی محاذ کھڑا کر کے مرواتا ہے۔ از بس لازم ہے کہ مسلمان محبت و مودت اور بغض و عناد کے متعلق اصولی موقف سمجھیں اور اسے اختیار کریں :
﴿ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ (الفتح : 29)
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن