مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 251

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: ((وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَحَدُ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ التَّارِكُ لِدِينِهِ))، أَوْ قَالَ: ((تَارِكُ الْإِسْلَامِ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 251

کتاب باب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، جس طرح کہ میں تمہارے اندر کھڑا ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ! اس آدمی کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سواکوئی معبودبرحق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، مگر تین آدمیوں میں سے ایک کا: جان بدلے جان کے اور شادی شدہ زانی اور جماعت سے علیحدہ ہونے والا، اپنے دین کو چھوڑ دینے والا یا فرمایا: اسلام کو ترک کر دینے والا۔
تشریح : (1).... ناحق قتل ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ اسلام نے عزت، مال اور جان سب کا تحفظ کیا ہے۔ حدیث میں مذکور تین صورتوں کے علاوہ کسی کا خون بہانا جائز نہیں ہے۔ (2) .... جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کیا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کے اوپر سے جھانکا اور یہی حدیث بیان کی اور فرمایا: میں نے کبھی زنا نہیں کیا، نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں اور نہ میں مرتد ہوا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نہ میں نے اس جان کو قتل کیا، جسے اللہ نے حرام کیا، تم مجھے کس بنا پر قتل کرتے ہو۔ (جامع ترمذي مع تحفة الأحوذي : 3؍204۔) (3) .... امام ابن العربی رحمہ اللہ نے اپنے بعض شیوخ سے حکایت کی ہے کہ قتل کے اسباب دس ہیں۔ ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ سب ان تین سے کسی صورت خارج نہیں ہیں۔( تحفة الأحوذي : 3؍205۔)
تخریج : صحیح بخاري: 6878، جامع ترمذي، الدیات : 1402، مسند طیالسي : 1؍296، مستدرك حاکم : 4؍350، 4؍453، 454۔ (1).... ناحق قتل ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ اسلام نے عزت، مال اور جان سب کا تحفظ کیا ہے۔ حدیث میں مذکور تین صورتوں کے علاوہ کسی کا خون بہانا جائز نہیں ہے۔ (2) .... جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کیا گیا تو انہوں نے اپنے گھر کے اوپر سے جھانکا اور یہی حدیث بیان کی اور فرمایا: میں نے کبھی زنا نہیں کیا، نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں اور نہ میں مرتد ہوا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نہ میں نے اس جان کو قتل کیا، جسے اللہ نے حرام کیا، تم مجھے کس بنا پر قتل کرتے ہو۔ (جامع ترمذي مع تحفة الأحوذي : 3؍204۔) (3) .... امام ابن العربی رحمہ اللہ نے اپنے بعض شیوخ سے حکایت کی ہے کہ قتل کے اسباب دس ہیں۔ ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ سب ان تین سے کسی صورت خارج نہیں ہیں۔( تحفة الأحوذي : 3؍205۔)