كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يَنْعَشُ بِلِسَانِهِ حَقًّا يَعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ، إِلَّا أُجْرِيَ عَلَيْهِ أَجْرُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ وفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
کتاب
باب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی بھی اپنی زبان کو حق کے ساتھ سیدھا رکھتا ہے، بعد ازاں اس پر عمل پیرا ہوتا ہے تو قیامت کے لیے اس کا اجر ضرور جاری ہو جاتا ہے،پھر قیامت والے دن اللہ اسے اس کا پورا ثواب عطا فرمائے گا۔
تشریح :
اس حدیث میں حق بات کہنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ قیامت تک کے لیے اس کے اجر کو جاری کرنا، اللہ حق شانہ کی طرف سے اس کے عمل کی قبولیت اور پسندیدگی کی علامت ہے۔ پھر قیامت والے دن ثواب کا اندازہ کیا ہو سکتا ہے، ہر حال میں سچائی اور راست بازی سے کام لینا واقعتاً دل سوزی،جگر کاوی اور پتہ ماری کا کام ہے، لیکن اہل حق کبھی بھی حالات کے قدموں میں نہیں گرتے، بلکہ حق کا نعرۂ مستانہ لگائے رکھتے ہیں۔
کہہ جائے سچی بات پی کر جو مستی میں
فقیہہ مصلحت بین سے وہ رند بادہ خوار اچھا
تخریج :
حلیة الأولیاء،ابو نعیم : 8؍150، ضعیف الجامع الصغیر : 5181۔
اس حدیث میں حق بات کہنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ قیامت تک کے لیے اس کے اجر کو جاری کرنا، اللہ حق شانہ کی طرف سے اس کے عمل کی قبولیت اور پسندیدگی کی علامت ہے۔ پھر قیامت والے دن ثواب کا اندازہ کیا ہو سکتا ہے، ہر حال میں سچائی اور راست بازی سے کام لینا واقعتاً دل سوزی،جگر کاوی اور پتہ ماری کا کام ہے، لیکن اہل حق کبھی بھی حالات کے قدموں میں نہیں گرتے، بلکہ حق کا نعرۂ مستانہ لگائے رکھتے ہیں۔
کہہ جائے سچی بات پی کر جو مستی میں
فقیہہ مصلحت بین سے وہ رند بادہ خوار اچھا