كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، قَالَ: قَالَ أَبِي لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: ((يَا خَالُ، إِنَّ النَّاسَ لَيْسُوا بِالنَّاسِ الَّذِي كُنْتَ تَعْهَدُ إِنَّمَا هُمُ الذِّئَابُ عَلَيْهِمُ الثِّيَابُ فَاحْذَرْهُمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ ذَلِكَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي مِنْهُمْ هُنَيْهَةً أَنِّي أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ بِأُذُنَيْكَ))
کتاب
باب
سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف نے کہا کہ میرے باپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ماموں ! بے شک لوگ، اب وہ لوگ نہیں ہیں، جن میں آپ وقت گزارتے آئے تھے، اب تو محض وہ بھیڑئیے ہیں، جن پر لباس ہیں،سو ان سے بچ کر رہیے۔ فرمایا کہ سنو، اللہ کی قسم! البتہ اگر تو نے یہ کہا ہے تو یقینا مجھے ان کی طرف سے تھوڑی دیر میں اس بات نے شک میں ڈالا کہ میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث بیان کر رہا ہوں اوروہ کہہ رہے ہیں کہ کیا تو نے اسے اپنے کانوں سے سنا ہے؟
تشریح :
یعنی تمہاری بات واقعتاً درست معلوم ہوتی ہے کہ لوگ بھیڑئیے ہیں اور انسانوں والا لبادہ اوڑھ رکھا ہے کہ کھڑے ہیں رہزن بہ شکل رہبر۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث بیان کرنے پر بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ منکرین حدیث کو یہاں دوسرے لقب ’’بھیڑئیے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جب کہ قبل ازیں احمق کہا گیا۔
یعنی تمہاری بات واقعتاً درست معلوم ہوتی ہے کہ لوگ بھیڑئیے ہیں اور انسانوں والا لبادہ اوڑھ رکھا ہے کہ کھڑے ہیں رہزن بہ شکل رہبر۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث بیان کرنے پر بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ منکرین حدیث کو یہاں دوسرے لقب ’’بھیڑئیے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جب کہ قبل ازیں احمق کہا گیا۔