مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 248

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَحَدَّثَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: حَدِّثُوا عَنْ كِتَابِ اللَّهِ وَلَا تُحدِّثُوا عَنْ غَيْرِهِ، فَقَالَ: ((إِنَّكَ امْرُؤٌ أَحْمَقُ، أَتَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَنَّ صَلَاةَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا لَا يُجْهَرُ فِيهَا، وَعَدَّدَ الصَّلَوَاتِ وَعَدَّدَ الزَّكَاةِ وَنَحْوَهَا، ثُمَّ قَالَ: أَتَجِدُ هَذَا مُفَسَّرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْكَمَ ذَلِكَ وَالسُّنَّةُ تُفَسِّرُ ذَلِكَ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 248

کتاب باب سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کسی چیز کے بارے میں ان سے سوال کیا۔ انہوں نے اسے حدیث بیان کی، وہ آدمی بولا: اللہ کی کتاب سے بیان کرو اور اس کے علاوہ سے بیان نہ کرو، تو انہوں نے فرمایا: بے شک تو ایک احمق انسان ہے، کیا تو قرآن میں پاتا ہے کہ بے شک ظہر کی نماز چار رکعت ہے، ان میں اونچی آواز میں نہیں پڑھا جائے گا، اور نمازوں کی گنتی اور زکوٰۃ کی گنتی وغیرہ، پھر فرمایا: کیا تو یہ تفصیل کے ساتھ اللہ کی کتاب میں پاتا ہے؟ بے شک اللہ کی کتاب نے یقینا یہ محکم بیان کر دیا ہے اور سنت اس کی تفسیر کرتی ہے۔
تشریح : اس میں واضح ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کسی منکر حدیث کے لیے کیا رویہ اختیار کرتے تھے۔یہ لوگ بہ زبان سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ احمق اور بے وقوف ہیں۔ تما م مسائل کی تفصیلات حدیث میں ہیں۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، جس کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کو اپنانا ہے۔
تخریج : زیادات الزهد، ابن مبارك، ص : 23، الشریعة للآجری : 98، الابانة الکبریٰ لابن بطة : 67۔ اس میں واضح ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کسی منکر حدیث کے لیے کیا رویہ اختیار کرتے تھے۔یہ لوگ بہ زبان سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ احمق اور بے وقوف ہیں۔ تما م مسائل کی تفصیلات حدیث میں ہیں۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، جس کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کو اپنانا ہے۔