كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، نَا أَبُو نَضْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ: إِنَّكَ تُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَوِ اكْتَتَبْنَاهُ، فَقَالَ: ((لَنْ أُكْتِبْكُمُوهُ، وَلَنْ أَجْعَلَهُ قُرْآنًا))
کتاب
باب
ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت پسندیدہ حدیث بیان کرتے ہیں، اگر ہم لکھ لیا کریں تو؟ آپ نے فرمایا: اسے لکھو اور میں ہر گز اسے قرآن نہیں بناؤں گا۔
تشریح :
(1).... اس میں کتابت حدیث کی دلیل ہے، حدیث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اور عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں بھی لکھی جاتی رہی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک مقتول کامعاملہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ اس نے یہاں قتل و غارت سے بھی روکا ہے۔ اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام ابوشاہ تھا، اس نے یہ خطبہ تحریر کرنے کا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کو میرا یہ خطبہ تحریر کر دو۔( صحیح بخاري، کتاب العلم : 1؍22۔)
(2) .... یہ حدیث واضح بتا رہی ہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں احادیث کی کتابت کا آغاز ہو چکا تھا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک صحیفہ تھا، جس میں دیت وغیرہ کے احکام لکھے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بحرین والوں کی طرف ایک تحریر بھیجی تھی، جس میں زکوٰۃ کے متعلق تفصیل تھی، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا ایک صحیفہ تھا، جسے صحیفۂ صادقہ کہا جاتا ہے، اس میں احادیث تحریر تھیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما احادیث لکھا کرتے تھے۔( مقدمة تحفة الأحوذي : 5؍19، نمبر : 20۔)
(3) .... کسی چیز کی حفاظت کے جس قدر اسباب درکار ہیں، وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی حفاظت میں موجود ہیں۔ (1)قوت حافظہ(2)فراست کاملہ (3)عظمت و ہیبت(4)محبت (5)د نیا سے نفرت و بیزاری اور آخرت کی تیاری (6)اللہ تعالیٰ کا ارادہ (7)تائید غیبی (8)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی تمنا (9)دعائیں (10)اللہ تعالیٰ کی جانب سے رکاوٹوں کا دور ہونا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ تمام پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا وہ محفوظ بھی ہے اور حجت بھی ہے۔( حجیت حدیث، ص : 227۔)
(4) .... ایڈورڈ گبن کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب کی جو چیز واقعی حیرت انگیز ہے،وہ اس کی اشاعت نہیں، بلکہ اس کا اثبات، اس کی پائیداری اور اس کی شان دوام ہے۔ جو صاف اور سادہ نقش آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ میں کندہ کیا تھا، بارہ صدیوں کے انقلابات کے بعد آج بھی قرآن کے ہندی، افریقی اور ترکی نومعتقدوں کے پاس اسی طرح محفوظ ہے۔( مقالات سیرت، ص : 219۔)
(5).... جو لوگ ان غیر مسلم لوگوں کے اعتراضات سے متاثر ہو کر انکار حدیث کی تاریکی میں گر رہے ہیں، گبن کا یہ بیان ان کے لیے مشعل راہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث دونوں کو محفوظ قرار دے رہا ہے۔ مولانا حالی تڑپ اٹھے:
وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبار دین کے مفسر کدھر ہیں
اصولی کدھر ہیں مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں مفسر کدھر ہیں
وہ مجلس جو کل سربسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں ٹمٹماتا نہیں واں
(1).... اس میں کتابت حدیث کی دلیل ہے، حدیث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اور عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں بھی لکھی جاتی رہی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک مقتول کامعاملہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ اس نے یہاں قتل و غارت سے بھی روکا ہے۔ اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام ابوشاہ تھا، اس نے یہ خطبہ تحریر کرنے کا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کو میرا یہ خطبہ تحریر کر دو۔( صحیح بخاري، کتاب العلم : 1؍22۔)
(2) .... یہ حدیث واضح بتا رہی ہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں احادیث کی کتابت کا آغاز ہو چکا تھا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک صحیفہ تھا، جس میں دیت وغیرہ کے احکام لکھے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بحرین والوں کی طرف ایک تحریر بھیجی تھی، جس میں زکوٰۃ کے متعلق تفصیل تھی، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا ایک صحیفہ تھا، جسے صحیفۂ صادقہ کہا جاتا ہے، اس میں احادیث تحریر تھیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما احادیث لکھا کرتے تھے۔( مقدمة تحفة الأحوذي : 5؍19، نمبر : 20۔)
(3) .... کسی چیز کی حفاظت کے جس قدر اسباب درکار ہیں، وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی حفاظت میں موجود ہیں۔ (1)قوت حافظہ(2)فراست کاملہ (3)عظمت و ہیبت(4)محبت (5)د نیا سے نفرت و بیزاری اور آخرت کی تیاری (6)اللہ تعالیٰ کا ارادہ (7)تائید غیبی (8)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی تمنا (9)دعائیں (10)اللہ تعالیٰ کی جانب سے رکاوٹوں کا دور ہونا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ تمام پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا وہ محفوظ بھی ہے اور حجت بھی ہے۔( حجیت حدیث، ص : 227۔)
(4) .... ایڈورڈ گبن کہتا ہے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب کی جو چیز واقعی حیرت انگیز ہے،وہ اس کی اشاعت نہیں، بلکہ اس کا اثبات، اس کی پائیداری اور اس کی شان دوام ہے۔ جو صاف اور سادہ نقش آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ میں کندہ کیا تھا، بارہ صدیوں کے انقلابات کے بعد آج بھی قرآن کے ہندی، افریقی اور ترکی نومعتقدوں کے پاس اسی طرح محفوظ ہے۔( مقالات سیرت، ص : 219۔)
(5).... جو لوگ ان غیر مسلم لوگوں کے اعتراضات سے متاثر ہو کر انکار حدیث کی تاریکی میں گر رہے ہیں، گبن کا یہ بیان ان کے لیے مشعل راہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث دونوں کو محفوظ قرار دے رہا ہے۔ مولانا حالی تڑپ اٹھے:
وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبار دین کے مفسر کدھر ہیں
اصولی کدھر ہیں مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں مفسر کدھر ہیں
وہ مجلس جو کل سربسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں ٹمٹماتا نہیں واں