كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، ((فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ حَتَّى رَجَعْنَا))، وَقَالَ حَمَّادٌ: يُعَظَّمُ الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا وَنَحنُ نُضَيِّعُ
کتاب
باب
سائب بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلا، میں نے نہیں سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کی ہو، یہاں تک کہ ہم لوٹ آئے۔حماد نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی تعظیم اور سنگینی کی وجہ سے (ایسا کیا)اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایسے اور ایسے (حدیثیں )بیان کرتے ہیں اور ہم ضائع کرتے ہیں۔
تشریح :
یہ ویسے ہی ہے جیسا کہ پیچھے عمرو بن میمون نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا ہے، سب صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی عالم تھا۔
تخریج :
سنن دارمي، مقدمة : 1؍73، رقم : 284۔
یہ ویسے ہی ہے جیسا کہ پیچھے عمرو بن میمون نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا ہے، سب صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی عالم تھا۔