مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 244

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ((كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَكِبْتُمْ فِيهِ الصَّعْبَةَ وَالذَّلُولَةَ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 244

کتاب باب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہم حدیث حفظ کیا کرتے تھے اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی جاتی رہی، یہاں تک کہ انہوں (صحابہ رضی اللہ عنہم )نے اس کی خاطر ہر دشواری کا سامنا کیا اور اس پر قابو پایا۔
تشریح : جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن مجید کو حفظ کیا، اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سینے میں محفوظ کیا اور انوار نبوت کی سنہری کرنوں سے اپنے دلوں کومنور و آراستہ کیا۔ دور دراز کے سفر کیے، کٹھنائیوں سے گزرے، مصائب و آلام کو جھیلا، راحت و آرام کو چھوڑا، گھر، وطن کو خیر باد کہا۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امام یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے: ’’لَا یُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجَسَدِ‘‘ ’’جسم کے آرام و سکون کے ساتھ علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی چار سالہ عہد رسالت کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ اسی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے صرف ایک حدیث کی خاطر مدینہ سے شام کا سفر کیا اور حدیث حاصل کر کے فوراً چلے آئے، تاکہ اس خالص عمل میں کوئی اور آمیزش نہ ہوپائے۔ رضی اللّٰه عنهم ورضوا عنه۔
تخریج : صحیح مسلم،مقدمة : 1؍81، مستدرك حاکم : 1؍112، سنن دارمي، مقدمة : 1؍73، رقم 284۔ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن مجید کو حفظ کیا، اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سینے میں محفوظ کیا اور انوار نبوت کی سنہری کرنوں سے اپنے دلوں کومنور و آراستہ کیا۔ دور دراز کے سفر کیے، کٹھنائیوں سے گزرے، مصائب و آلام کو جھیلا، راحت و آرام کو چھوڑا، گھر، وطن کو خیر باد کہا۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں امام یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے: ’’لَا یُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجَسَدِ‘‘ ’’جسم کے آرام و سکون کے ساتھ علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی چار سالہ عہد رسالت کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ اسی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے صرف ایک حدیث کی خاطر مدینہ سے شام کا سفر کیا اور حدیث حاصل کر کے فوراً چلے آئے، تاکہ اس خالص عمل میں کوئی اور آمیزش نہ ہوپائے۔ رضی اللّٰه عنهم ورضوا عنه۔