كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثُمَّ أَرْعَدَ أَوْ قَالَ: اهْتَزَّ، فَقَالَ: ((أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ أَوْ دُونَ ذَلِكَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ))
کتاب
باب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (شعبی نے کہا)پھر وہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ )گھبراہٹ سے کپکپانے لگے یا کہا کہ ہلنے لگے، اور کہا کہ یا اس سے اوپر یا اس کے کم اور اس طرح۔
تشریح :
یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو جامع فصل و کمال ہیں۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا عالم یہ ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور بیان کرنے کے بعد اس خوف سے کہ کمی بیشی نہ ہوگئی ہو فرماتے ہیں، الفاظ یہی ہے، یا اس جیسے اس یا اس سے کم یا زیادہ ہیں۔ یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی کمال احتیاط اور ورع و تقویٰ ہے، ورنہ انہوں نے وہی الفاظ بیان کیے ہوتے ہیں جو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان نبوت و رسالت سے سنے ہوتے ہیں، درج ذیل اثر میں مزید وضاحت ہے۔
تخریج :
سنن دارمي،مقدمة : 1؍74 رقم : 287، 277۔
یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو جامع فصل و کمال ہیں۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا عالم یہ ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور بیان کرنے کے بعد اس خوف سے کہ کمی بیشی نہ ہوگئی ہو فرماتے ہیں، الفاظ یہی ہے، یا اس جیسے اس یا اس سے کم یا زیادہ ہیں۔ یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی کمال احتیاط اور ورع و تقویٰ ہے، ورنہ انہوں نے وہی الفاظ بیان کیے ہوتے ہیں جو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان نبوت و رسالت سے سنے ہوتے ہیں، درج ذیل اثر میں مزید وضاحت ہے۔