كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ،قَالَ: أَرَادَ قَرَظَةُ أَنْ يَأْتِيَ الْعِرَاقَ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَخَرَجَ مَعَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ لِمَ خَرَجْتُ مَعَكُمْ؟ قَالُوا: وُدًّا لَنَا وَحَقًّا. قَالَ: لَكُمْ حَقًّا وَلَكِنِّي جِئْتُ فِي كَلِمَةٍ: ((أَقِلُّوا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ فِيهِ))، قَالَ: فَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَوْلِ عُمَرَ
کتاب
باب
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قرظہ نے بنو عبد الاشہل کے کچھ لوگوں کے ساتھ عراق آنے کا ارادہ کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ نکلے اور پانی منگوایا، وضو کیا اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیوں نکلا ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ ہماری محبت اور ہمارے حق کی وجہ سے۔ فرمایا: بے شک تمہارا حق ہے، لیکن میں ایک بات کہنے آیا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کم حدیثیں بیان کرنا اور میں اس (بات کی پابندی)میں تمہارا شریک ہوں۔ (شعبی)نے کہا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا۔
تشریح :
(1).... فتویٰ دینے میں انتہائی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مفتی نے شریعت بیان کرنی ہوتی ہے اور مراد الٰہی سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ جب تک پورا وثوق اور تیقن نہ ہو کتاب و سنت کے نصوص کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات کی نسبت کرنا، اتنا آسان کام نہیں ہے بلکہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، اس کے لیے بڑی جگر کاوی کی ضرورت ہے۔
(2) .... یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، خود ساختہ احادیث بیان کی جاتی ہیں اور بخاری شریف کا حوالہ بلکہ ساتھ حدیث کا نمبر بھی درج ہوتا ہے، حالاں کہ وہ حدیث بخاری شریف میں کہیں نہیں ہوتی۔ موضوعات اور من گھڑت روایات پر مبنی اہل علم نے کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن اب ایسی ایسی روایات بیان کی جاتی ہیں جو اس دور کی پیداوار ہیں اور پہلی کتابوں کے اندر ان کا وجود تک نہیں ہے۔ جیسا کہ ربیع الاؤل اور رمضان وغیرہ مہینوں کی سب سے پہلے خوش خبری سنانے والے کے متعلق فضائل وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ایسے راویوں اور ایسے رویوں سے امت کو محفوظ فرمائے۔
تخریج :
سنن ابن ماجة : 1655، سنن دارمی،ا لمقدمة: 1؍73، رقم : 285۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
(1).... فتویٰ دینے میں انتہائی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مفتی نے شریعت بیان کرنی ہوتی ہے اور مراد الٰہی سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ جب تک پورا وثوق اور تیقن نہ ہو کتاب و سنت کے نصوص کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات کی نسبت کرنا، اتنا آسان کام نہیں ہے بلکہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، اس کے لیے بڑی جگر کاوی کی ضرورت ہے۔
(2) .... یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، خود ساختہ احادیث بیان کی جاتی ہیں اور بخاری شریف کا حوالہ بلکہ ساتھ حدیث کا نمبر بھی درج ہوتا ہے، حالاں کہ وہ حدیث بخاری شریف میں کہیں نہیں ہوتی۔ موضوعات اور من گھڑت روایات پر مبنی اہل علم نے کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن اب ایسی ایسی روایات بیان کی جاتی ہیں جو اس دور کی پیداوار ہیں اور پہلی کتابوں کے اندر ان کا وجود تک نہیں ہے۔ جیسا کہ ربیع الاؤل اور رمضان وغیرہ مہینوں کی سب سے پہلے خوش خبری سنانے والے کے متعلق فضائل وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ایسے راویوں اور ایسے رویوں سے امت کو محفوظ فرمائے۔