مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 240

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 240

کتاب باب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں : ان سب کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، نکاح کرنے والا، جو پاک دامنی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ مکاتب غلام جو ادائی کا ارادہ رکھتا ہے۔
تشریح : حدیث پاک میں تین اعمال کی فضیلت واضح ہے۔ جب اللہ کی مدد ساتھ ہے تو ڈرکیسا۔ یہ اعمال بجا لانے چاہیں۔ مکاتب غلام کی مدد کی مثال مذکورہ بالا حدیث بریرہ رضی اللہ عنہ میں گزر چکی ہے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اللہ کی مدد کیسی ہوئی کہ جو قسطیں سات سالوں میں پوری ہونی تھیں اور آزادی ملنی تھی،وہ فوراً ادا ہو گئیں اور وہ آزاد ہوگئیں۔
تخریج : جامع ترمذي، فضائل الجهاد : 1655، سنن ابن ماجة: 2518، مسند احمد : 2؍251، 437۔ محدث البانی نے اسے ’’حسن‘‘ کہا ہے۔ حدیث پاک میں تین اعمال کی فضیلت واضح ہے۔ جب اللہ کی مدد ساتھ ہے تو ڈرکیسا۔ یہ اعمال بجا لانے چاہیں۔ مکاتب غلام کی مدد کی مثال مذکورہ بالا حدیث بریرہ رضی اللہ عنہ میں گزر چکی ہے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اللہ کی مدد کیسی ہوئی کہ جو قسطیں سات سالوں میں پوری ہونی تھیں اور آزادی ملنی تھی،وہ فوراً ادا ہو گئیں اور وہ آزاد ہوگئیں۔