كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّ))
کتاب
باب
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی رشتے دار کا مالک بنا تو وہ آزاد ہے۔
تشریح :
جس مالک کی ملکیت میں اس کا قرابت دار جیسا کہ اس کا باپ،بھائی وغیرہ غلامی کی حالت میں آگئے تو وہ فوراً آزاد ہوجائیں گے۔ صلہ رحمی اور رشتے کے تقدس کا تقاضا یہی ہے۔ اسلام نے رشتوں کو نبھانے کی کیسی خوب صورت تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں۔
تخریج :
سنن ابن ماجة: 2524، 2525، مسند طیالسي : 1؍245، مستدرك حاکم: 2؍214، معانی الآثار،طحاوی : 3؍109، 110، التلخیص الحبیر : 4؍212، نصب الرایة، زیلعي : 3؍279۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
جس مالک کی ملکیت میں اس کا قرابت دار جیسا کہ اس کا باپ،بھائی وغیرہ غلامی کی حالت میں آگئے تو وہ فوراً آزاد ہوجائیں گے۔ صلہ رحمی اور رشتے کے تقدس کا تقاضا یہی ہے۔ اسلام نے رشتوں کو نبھانے کی کیسی خوب صورت تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں۔