مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 238

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبَنِي أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أُعُدَّهَا لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً ويَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَسَأَلَ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: ((خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا واشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ))، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، فَمَا بَالُ أَحَدُكُمْ يَقُولُ: أَعْتِقْ فُلَانًا وَلِيَ الْوَلَاءُ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 238

کتاب باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ بریرہ آئی اور کہا: بے شک میرے آقاؤں نے مجھ سے سات اوقیوں پر مکاتبت (لکھ پڑت)کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ (چالیس درہم)دینا ہے، لہٰذا میری مدد کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تیرے آقا پسند کریں کہ میں انہیں یک بارگی ساری رقم گن کر دے دوں، تو میں دے دیتی ہوں، لیکن تیرا ’’ولاء‘‘ میرا ہوگا۔ وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئی تو انہوں نے اس پر اس کا انکار کر دیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے اور کہا: بے شک میں نے ان پر پیش کیا، پھر انہوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ ’’ولاء‘‘ انہیں کا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (سارا ماجرا)بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو اسے لے اور آزاد کر دے اور ان کے لیے ’’ولاء‘‘ کی شرط لگا دے، بے شک ’’ولاء‘‘ اس کا ہے جس نے آزاد کیا، سو عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پہر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: اما بعد! تم میں سے ان مردوں کی کیا حالت ہے، جو ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں، جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو کوئی بھی ایسی شرط ہوئی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، وہ باطل ہے۔ اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں، اللہ کا فیصلہ زیادہ حق والا ہے اور اللہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے۔ پس کیا حالت ہے تمہارے ایک کی جو کہتا ہوتا ہے کہ اس نے آزاد کیا اور ’’ولاء‘‘ میرا ہی ہے۔ ’’ولاء‘‘ صرف اس کا ہے جس نے آزادکیا۔
تشریح : (1).... ’’ولاء‘‘ کا حق صرف آزاد کرنے والا کا ہے۔ غلام کو فروخت کرنے والا اس کی شرط عائد نہیں کر سکتا۔ (2) .... جو شرط بھی کتاب و سنت کے خلاف ہوگی، رد کر دی جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ (3) .... مکاتب غلام اسے کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے لکھ پڑت کر لی ہو کہ میں آپ کو اتنی رقم دے دیتا ہوں آپ مجھے آزاد کر دیں۔ (4) .... قرآن مجید میں ’’ولاء‘‘ اور مکاتبت اور ’’ولاء‘‘ کی شرائط نہیں ہیں۔ یہ صرف حدیث وسنت میں بیان ہوئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث پر کتاب کا لفظ بولا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ حدیث بھی کتاب اللہ کی طرح وحی ہے اور حجت ہے۔منکرین حدیث غور کریں۔
تخریج : صحیح البخاري، المکاتب : 5؍141، صحیح مسلم، العتق : 10؍144، 145، سنن ابن ماجة: 2521، مسند أحمد : 6؍413، مسند شافعي(بدائع المنن): 2؍140، طبقات ابن سعد : 8؍258، جامع ترمذي، البیوع : 4؍467، سنن ابي داؤد، الفرائض : 8؍126، سنن دارمي: 2؍10، التلخیص الحبیر : 3؍13، نصب الرایة، زیلعي: 4؍16، مسند طیالسي: 1؍244، موطا مالك:4؍90، 94، 95۔ (1).... ’’ولاء‘‘ کا حق صرف آزاد کرنے والا کا ہے۔ غلام کو فروخت کرنے والا اس کی شرط عائد نہیں کر سکتا۔ (2) .... جو شرط بھی کتاب و سنت کے خلاف ہوگی، رد کر دی جائے گی، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ (3) .... مکاتب غلام اسے کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے لکھ پڑت کر لی ہو کہ میں آپ کو اتنی رقم دے دیتا ہوں آپ مجھے آزاد کر دیں۔ (4) .... قرآن مجید میں ’’ولاء‘‘ اور مکاتبت اور ’’ولاء‘‘ کی شرائط نہیں ہیں۔ یہ صرف حدیث وسنت میں بیان ہوئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث پر کتاب کا لفظ بولا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ حدیث بھی کتاب اللہ کی طرح وحی ہے اور حجت ہے۔منکرین حدیث غور کریں۔