كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَشُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ((أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ))، إِلَّا أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ نَسِيَ وَفِي الْهِبَةِ أَوْ لَمْ يَذْكُرْهَا
کتاب
باب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ولاء‘‘ کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے، مگر بے شک عبید اللہ نے ہبہ کا ذکر کرنا بھول گئے یا اسے ذکر نہیں کیا۔
تشریح :
(1).... اس حدیث کے آخر میں مدرج الفاظ کا مقصد یہ ہے کہ عبید اللہ راوی نے بیع کا ذکر تو کیا ہے، لیکن ہبہ کا ذکر نہیں کیا۔( صحیح مسلم مع شرح : 1؍495۔)
(2) .... جس غلام کو آزاد کیا ہو اس کی وراثت آزاد کرنے والے کوملتی ہے اسے ’’ولاء‘‘ کہتے ہیں۔ ’’ولاء‘‘ کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔ ’’ولاء‘‘ کسی صورت اس کے مستحق سے (دوسرے کی طرف)منتقل نہیں ہو سکتا بلکہ وہ نسب کے رشتے کی طرح ایک رشتہ ہے۔ سلف و خلف جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔( صحیح مسلم مع شرح : 1؍495۔)
تخریج :
صحیح بخاري، العتق : 5؍126، الفرائض : 12؍35، صحیح مسلم : العتعق : 10؍148، جامع ترمذي، البیوع : 4؍435، الولاء والهبة : 6؍321، سنن ابي داؤد، الفرائض : 133؍8، مسند طیالسي : 1؍264، سنن دارمي: 2؍287، مستدرك حاکم : 2؍214۔
(1).... اس حدیث کے آخر میں مدرج الفاظ کا مقصد یہ ہے کہ عبید اللہ راوی نے بیع کا ذکر تو کیا ہے، لیکن ہبہ کا ذکر نہیں کیا۔( صحیح مسلم مع شرح : 1؍495۔)
(2) .... جس غلام کو آزاد کیا ہو اس کی وراثت آزاد کرنے والے کوملتی ہے اسے ’’ولاء‘‘ کہتے ہیں۔ ’’ولاء‘‘ کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔ ’’ولاء‘‘ کسی صورت اس کے مستحق سے (دوسرے کی طرف)منتقل نہیں ہو سکتا بلکہ وہ نسب کے رشتے کی طرح ایک رشتہ ہے۔ سلف و خلف جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔( صحیح مسلم مع شرح : 1؍495۔)