كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَاحْتَاجَ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟))، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِكَذَا وَكَذَا فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ
کتاب
باب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بے شک ایک آدمی نے اپنا غلام، قرض کے باوجود آزاد کر دیا تو وہ محتاج ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور فرمایا: اسے مجھ سے کون خریدے گا؟ تو اسے نعیم بن عبداللہ نے اتنے اتنے میں خریدا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اس کے سپرد کر دیا۔
تشریح :
(1)یہ ایک انصاری صحابی ابو مذکور رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے یعقوب نامی اپنا غلام مدبر (یعنی کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے)کیا۔ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا۔ جسے نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رقم ابومذکور رضی اللہ عنہ کو دی اور فرمایا:
((ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَیْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ فَلِأَہْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَیْئٌ فَلِذِی قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَیْئٌ فَهٰکَذَا وَهٰکَذَا یَقُولُ فَبَیْنَ یَدَیْكَ وَعَنْ یَّمِینِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ)) (صحیح مسلم : 997۔)
’’اپنے آپ سے شروع کر اور اپنی جان پر صدقہ کر، اگر کوئی چیز بچ جائے تو تیرے گھر والوں کے لیے ہے۔ اگر تیرے گھر والوں سے کوئی چیز بچ جائے تو تیرے رشتہ داروں کے لیے ہے، اگر تیرے رشتہ داروں سے کوئی چیز بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح (دے دو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اپنے آگے، دائیں جانب اور بائیں جانب دے دو۔‘‘
(2) .... خرچ کرنے کی ابتداء اسی مذکورہ ترتیب کے مطابق ہونی چاہیے۔
(3) .... جب حقوق اور فضائل بہت زیادہ ہوں تو زیادہ تاکید والے کو مقدم کیا جائے گا، پھر اس کے بعد جوزیادہ تاکید والا ہے۔
(4) .... نفلی صدقے میں افضل یہ ہے کہ اسے نیکی کے مختلف کاموں میں خرچ کرے، جیسا کہ مصلحت کا تقاضا ہے، محض ایک جہت کو متعین نہ کرے۔( شرح صحیح مسلم : 1؍322۔)
تخریج :
صحیح بخاري، کفارات الأیمان : 11؍507، صحیح مسلم، الأیمان : 11؍141، 142، رقم : 58، 59، جامع ترمذي: 4؍411 فی کتاب البیوع، سنن ابي داؤد : العتاق : 10؍494، مسند أحمد (الفتح الرباني )1؍245، سنن بیهقي: 1؍308، 309، تاریخ بغداد : 4؍238، التلخیص الحبیر : 4؍215، نصب الرایة، زیلعي: 3؍285۔
(1)یہ ایک انصاری صحابی ابو مذکور رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے یعقوب نامی اپنا غلام مدبر (یعنی کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے)کیا۔ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا۔ جسے نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رقم ابومذکور رضی اللہ عنہ کو دی اور فرمایا:
((ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَیْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ فَلِأَہْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَیْئٌ فَلِذِی قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَیْئٌ فَهٰکَذَا وَهٰکَذَا یَقُولُ فَبَیْنَ یَدَیْكَ وَعَنْ یَّمِینِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ)) (صحیح مسلم : 997۔)
’’اپنے آپ سے شروع کر اور اپنی جان پر صدقہ کر، اگر کوئی چیز بچ جائے تو تیرے گھر والوں کے لیے ہے۔ اگر تیرے گھر والوں سے کوئی چیز بچ جائے تو تیرے رشتہ داروں کے لیے ہے، اگر تیرے رشتہ داروں سے کوئی چیز بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح (دے دو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اپنے آگے، دائیں جانب اور بائیں جانب دے دو۔‘‘
(2) .... خرچ کرنے کی ابتداء اسی مذکورہ ترتیب کے مطابق ہونی چاہیے۔
(3) .... جب حقوق اور فضائل بہت زیادہ ہوں تو زیادہ تاکید والے کو مقدم کیا جائے گا، پھر اس کے بعد جوزیادہ تاکید والا ہے۔
(4) .... نفلی صدقے میں افضل یہ ہے کہ اسے نیکی کے مختلف کاموں میں خرچ کرے، جیسا کہ مصلحت کا تقاضا ہے، محض ایک جہت کو متعین نہ کرے۔( شرح صحیح مسلم : 1؍322۔)