كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ عِيَاضٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَهَا وَأَحْتَبِسَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِرَادٍّ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ))، أَوْ قَالَ: ((مَانِعٌ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ)) . قَالَ: ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ جَارِيَتِي تِلْكَ وَلَدَتْ وَإِنِّي كُنْتُ أَحْتَبِسُهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ))
کتاب
باب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ بے شک ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بے شک میری ایک لونڈی ہے اور میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اس کے پاس آؤں اور اسے روک کر رکھوں (حاملہ ہونے سے)بچاؤں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاـ: سنو! بے شک جس کا اللہ ارادہ کرے، یہ چیز اسے قطعاً رد کرنے والی نہیں ہے، یا فرمایا: کہ جس کا اللہ ارادہ کر لے، اسے کوئی چیز روکنے والی نہیں ہے، پھر وہ آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک میری اس لونڈی نے بچہ پیدا کیا ہے۔
تشریح :
اس حدیث میں ’’عزل‘‘ کا مسئلہ بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی ہم بستری کرے اور جب انزال قریب ہو تو علیحدہ ہوجائے اور باہر انزال کرے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر حالت اور ہر عورت کے بارے میں چاہے وہ راضی ہو یا نہ ہو، مکروہ ہے کیوں کہ یہ نسل کشی کا طریقہ ہے اس لیے حدیث میں اس کو پوشیدہ زندہ درگور کرنے کا نام دیا گیا ہے، کیوں کہ یہ ولادت کے راستے کو ختم کرتا ہے جیسا کہ بچے کو زندہ درگور کر کے قتل کیا جاتا ہے۔ا لبتہ لونڈی سے عزل حرام نہیں ہے وہ راضی ہو یا نہ ہو، لیکن آزاد بیوی اگر اجازت دے تو حرام نہیں ہے اور اگراجازت نہ دے تو دو صورتیں ہیں، ان میں سے زیادہ صحیح یہی ہے کہ حرام نہیں ہے۔ پھر ان احادیث کی دوسری احادیث کے ساتھ جمع و تطبیق یہ ہے کہ جن میں ممانعت آئی ہے، وہ کراہت تنزیہی پر محمول ہیں اور جن میں عزل کی اجازت آئی ہے وہ اس پر محمول ہیں کہ یہ حرام نہیں ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کراہت کی نفی کی جا رہی ہے۔ نیز جس نے آزاد بیوی کی اجازت کے بغیر عزل کرنے کو حرام قرار دیا اس کا موقف یہ ہے کہ اس میں اس کے لیے ضرر ہے، لہٰذا اس کے جواز کے لیے اس کی اجازت مشروط ہے۔( شرح صحیح مسلم : 1؍464۔)
تخریج :
صحیح مسلم، النکاح : 10؍13۔
اس حدیث میں ’’عزل‘‘ کا مسئلہ بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی ہم بستری کرے اور جب انزال قریب ہو تو علیحدہ ہوجائے اور باہر انزال کرے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر حالت اور ہر عورت کے بارے میں چاہے وہ راضی ہو یا نہ ہو، مکروہ ہے کیوں کہ یہ نسل کشی کا طریقہ ہے اس لیے حدیث میں اس کو پوشیدہ زندہ درگور کرنے کا نام دیا گیا ہے، کیوں کہ یہ ولادت کے راستے کو ختم کرتا ہے جیسا کہ بچے کو زندہ درگور کر کے قتل کیا جاتا ہے۔ا لبتہ لونڈی سے عزل حرام نہیں ہے وہ راضی ہو یا نہ ہو، لیکن آزاد بیوی اگر اجازت دے تو حرام نہیں ہے اور اگراجازت نہ دے تو دو صورتیں ہیں، ان میں سے زیادہ صحیح یہی ہے کہ حرام نہیں ہے۔ پھر ان احادیث کی دوسری احادیث کے ساتھ جمع و تطبیق یہ ہے کہ جن میں ممانعت آئی ہے، وہ کراہت تنزیہی پر محمول ہیں اور جن میں عزل کی اجازت آئی ہے وہ اس پر محمول ہیں کہ یہ حرام نہیں ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کراہت کی نفی کی جا رہی ہے۔ نیز جس نے آزاد بیوی کی اجازت کے بغیر عزل کرنے کو حرام قرار دیا اس کا موقف یہ ہے کہ اس میں اس کے لیے ضرر ہے، لہٰذا اس کے جواز کے لیے اس کی اجازت مشروط ہے۔( شرح صحیح مسلم : 1؍464۔)