كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَعَلَى الْمُعْتِقِ أَنْ يُقَامَ عَلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنَ الْعَبْدِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ))
کتاب
باب
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جونسا بھی مرد کہ اس کے درمیان اور دوسرے کے درمیان اس کے غلام میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو آزاد کرنے والے پر، اگر اس کے پاس مال ہے تو لازم ہے کہ غلام پر جو (قیمت)باقی رہتی ہے، اس پر لگائی جائے گی۔
تشریح :
(1).... اس کی صورت یہ ہے کہ اگر ایک غلام کئی مالکوں کی مشترکہ پراپرٹی ہے اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے، آزاد کرنے والا اگر مال والا ہے باقی شرکاء کے حصے جتنے بنتے ہیں وہ بھی ادا کرے گا، یہاں تک کہ غلام ہر مالک سے آزاد ہوجائے گا۔
(2) .... اگر وہ مال دار نہیں ہے اور سب کے حصص آزاد نہیں کرے گا تو غلام تو آزاد ہی ہے، لیکن باقی حصص کی ادائیگی کے لیے دوڑ دھوپ کرے گا اور رقم جمع کر کے، باقی شرکاء کو دے گا۔ لیکن اس بارے غلام پرکوئی مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔
(3) .... غلام کو ایک مالک کی طرف سے آزادی کا پروانہ مل جانے پر، اس پر آزاد لوگوں کے احکام جاری ہوں گے، نکاح، طلاق، دیت وغیرہ میں اسے آزاد آدمی کے حقوق و احکام کا سامنا ہوگا۔
تخریج :
صحیح مسلم: 4325، سنن الکبریٰ بیهقي: 275؍10۔
(1).... اس کی صورت یہ ہے کہ اگر ایک غلام کئی مالکوں کی مشترکہ پراپرٹی ہے اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے، آزاد کرنے والا اگر مال والا ہے باقی شرکاء کے حصے جتنے بنتے ہیں وہ بھی ادا کرے گا، یہاں تک کہ غلام ہر مالک سے آزاد ہوجائے گا۔
(2) .... اگر وہ مال دار نہیں ہے اور سب کے حصص آزاد نہیں کرے گا تو غلام تو آزاد ہی ہے، لیکن باقی حصص کی ادائیگی کے لیے دوڑ دھوپ کرے گا اور رقم جمع کر کے، باقی شرکاء کو دے گا۔ لیکن اس بارے غلام پرکوئی مشقت نہیں ڈالی جائے گی۔
(3) .... غلام کو ایک مالک کی طرف سے آزادی کا پروانہ مل جانے پر، اس پر آزاد لوگوں کے احکام جاری ہوں گے، نکاح، طلاق، دیت وغیرہ میں اسے آزاد آدمی کے حقوق و احکام کا سامنا ہوگا۔