مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 228

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، حَدَّثَنِي الْغَرِيفُ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لَنَا: قَدْ أَوْجَبَ، قَالَ: ((فَلْيُعْتِقُونَ فِيهِ مِثْلَهُ يَفُكُّ اللَّهُ بِكُلِّ عُضوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 228

کتاب باب غریف بن عیاش بن فرقد دیلمی نے کہا کہ میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو (کلاب)نے ان سے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں، کہا کہ ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو سلیم کی ایک جماعت آئی تو ہمارے ایک ساتھی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یقینا اس نے واجب کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس میں اس کی مثل ایک گردن آزاد کریں، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے، اس کا (ہر)عضو آگ سے آزاد کر دے گا۔
تشریح : اس نے کیا فرض کرلیا؟ اس کی وضاحت معلوم نہیں ہوسکی۔ البتہ اکثر ’’أَوْجَبَ‘‘ کو خبر کی بجائے انشاء میں لے جائیں اور ’’أَوْجِبْ‘‘ پڑھیں تو معنی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز واجب کریں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ فرمایا: اس طرح مفہوم واضح ہوسکتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ایک مشترکہ غلام میں سے اس نے اپنا حصہ آزاد کردیا، اب اس پر واجب ہے کہ وہ سارے غلام آزاد کرائے اور دوسرے شرکاء کا بھی حصہ انہیں ادا کرے، بشرطیکہ یہ مال دار ہو۔ جیسا کہ اگلی احادیث میں آرہا ہے اور یہی مفہوم راجح ہے۔ واللہ اعلم
تخریج : صحیح ابن حبان : (الموارد)293، مستدرك حاکم : 2؍212، التلخیص الحبیر : 4؍38۔ حاکم اور ابن حبان نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ اس نے کیا فرض کرلیا؟ اس کی وضاحت معلوم نہیں ہوسکی۔ البتہ اکثر ’’أَوْجَبَ‘‘ کو خبر کی بجائے انشاء میں لے جائیں اور ’’أَوْجِبْ‘‘ پڑھیں تو معنی ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز واجب کریں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ فرمایا: اس طرح مفہوم واضح ہوسکتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ایک مشترکہ غلام میں سے اس نے اپنا حصہ آزاد کردیا، اب اس پر واجب ہے کہ وہ سارے غلام آزاد کرائے اور دوسرے شرکاء کا بھی حصہ انہیں ادا کرے، بشرطیکہ یہ مال دار ہو۔ جیسا کہ اگلی احادیث میں آرہا ہے اور یہی مفہوم راجح ہے۔ واللہ اعلم