مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 227

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا جَدِّي، نَا حَبَّانُ، أَنا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: دَعَا شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ، مُرَّةَ بْنَ كَعْبٍ أَوْ كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ((مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ))

ترجمہ مسند عبد الله بن مبارك - حدیث 227

کتاب باب عبید بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے بیان کیا شرحبیل بن سمط نے مرہ بن کعب یا کعب بن مرہ کو بلایا اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر اور ڈر تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی مسلمان (غلام)آدمی کو آزاد کیا، اللہ اس (غلام)کے ہر عضو کے بدلے اس کا ہر عضو آگ سے آزاد کر دے گا اور جس نے کسی مسلمان عورت (لونڈی)کو آزاد کیا، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے، اس کا ہر عضو آگ سے آزاد کر دے گا۔
تشریح : (1).... غلامی کو اسلام نے پسند نہیں کیا اور کفر کے سبب جو غلامی چلی آ رہی تھی، اسلام نے اسے ختم کیا اور پھر ایک دور ایسا آیا کہ کوئی بھی غلام نہ رہا۔ یہ اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کا کارنامہ ہے۔ مسلمانوں کے دوسرے عظیم خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مشہور مقولہ ہے: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا۔ (2) .... مسلمان غلام کہہ کر کافر غلام کو خارج کیا گیا۔ لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کافر گردن کو آزاد کرنے کوئی فائدہ یا اجر نہیں، بلکہ اجر ہے لیکن وہ نہیں جو مسلمان گردن کو آزاد کرنے کا ہے کہ اس کا ہر ہر عضو حتی کہ شرم گاہ تک آگ سے آزاد کر دی جائے۔ (3) .... مسلمان لونڈی کو آزاد کرنے کی فضیلت علیحدہ بیان کی گئی، حالاں کہ عورت مرد کے حکم کے تابع ہی ہوتی ہے لیکن اس لیے کہ مبادا کوئی عورت بالخصوص لونڈی کے معاملے کو حقیر جانتے ہوئے درخور اعتنا نہ سمجھے جیساکہ دور جاہلیت میں عورتوں کے حقوق کا استیصال کیا جاتا تھا، اسلام نے اس کا تذکرہ جداگانہ کیا ہے۔ (4) .... ان تعلیمات کے آگے دور حاضر کی نام نہاد حقوق نسواں کی آواز بلند کرنے والی این جی اوز کا منہ کالا ہوجاتا ہے کہ اسلام نے تو لونڈیوں تک کے حقوق محفوظ کر دئیے ہیں، آزاد عورت کے کیا کہنے، ان تنظیموں کا مقصد صرف مغرب کے مقاصد کو پورا کرنا اور مسلم ممالک میں انارکی اور فحاشی کو فروغ دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلم ماں، بیٹی کی عزت محفوظ رکھے آمین!
تخریج : صحیح بخاري: 6715، سنن ابن ماجة: 2522، مسند احمد : 4؍35۔ (1).... غلامی کو اسلام نے پسند نہیں کیا اور کفر کے سبب جو غلامی چلی آ رہی تھی، اسلام نے اسے ختم کیا اور پھر ایک دور ایسا آیا کہ کوئی بھی غلام نہ رہا۔ یہ اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کا کارنامہ ہے۔ مسلمانوں کے دوسرے عظیم خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مشہور مقولہ ہے: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا۔ (2) .... مسلمان غلام کہہ کر کافر غلام کو خارج کیا گیا۔ لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کافر گردن کو آزاد کرنے کوئی فائدہ یا اجر نہیں، بلکہ اجر ہے لیکن وہ نہیں جو مسلمان گردن کو آزاد کرنے کا ہے کہ اس کا ہر ہر عضو حتی کہ شرم گاہ تک آگ سے آزاد کر دی جائے۔ (3) .... مسلمان لونڈی کو آزاد کرنے کی فضیلت علیحدہ بیان کی گئی، حالاں کہ عورت مرد کے حکم کے تابع ہی ہوتی ہے لیکن اس لیے کہ مبادا کوئی عورت بالخصوص لونڈی کے معاملے کو حقیر جانتے ہوئے درخور اعتنا نہ سمجھے جیساکہ دور جاہلیت میں عورتوں کے حقوق کا استیصال کیا جاتا تھا، اسلام نے اس کا تذکرہ جداگانہ کیا ہے۔ (4) .... ان تعلیمات کے آگے دور حاضر کی نام نہاد حقوق نسواں کی آواز بلند کرنے والی این جی اوز کا منہ کالا ہوجاتا ہے کہ اسلام نے تو لونڈیوں تک کے حقوق محفوظ کر دئیے ہیں، آزاد عورت کے کیا کہنے، ان تنظیموں کا مقصد صرف مغرب کے مقاصد کو پورا کرنا اور مسلم ممالک میں انارکی اور فحاشی کو فروغ دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلم ماں، بیٹی کی عزت محفوظ رکھے آمین!