مسند عبد الرحمن بن عوف - حدیث 51

كِتَابُ الْمَشَايِخُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَبَّرَهُ أَرْبَعَةٌ آخِرُهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ

ترجمہ مسند عبد الرحمن بن عوف - حدیث 51

کتاب مشائخ کی عبد الرحمن سے روایت شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار آدمیوں نے قبر میں اُتارا تھا، اُن میں سے آخری عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
تشریح : 1۔....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی خدمت خاص اعزہ و اقارب نے انجام دی۔ فضل بن عباس اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے پردہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی موقع پر موجود تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ان ہی نے پردہ بھی کیا تھا چونکہ اس شرف میں ہر شخص شریک ہونا چاہتا تھا۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اندر سے کواڑ بند کرلیے تھے۔ انصار نے دروازہ پر آواز دی کہ اللہ کے لیے ہمارے حقوق کا بھی خیال رکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جیسا کہ واقدی کا بیان ہے۔ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس کا حق نہیں ہے، اس لیے اگر سب کو اجازت دی گئی تو کام رہ جائے گا لیکن (انصار کے اصرار پر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اوس ابن خولی انصاری رضی اللہ عنہ کو جو اصحابِ بدر میں تھے اندر بلالیا، وہ پانی کا گھڑا بھر بھر کر لاتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جسم مبارک کو سینے سے لگا رکھا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں صاحبزادے قثم اور فضل رضی اللہ عنہما جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اوپر سے پانی ڈالتے تھے۔( طبقات ابن سعد : ۲؍۲۸۰۔) 2۔....قباء کے ’’غرس‘‘ نامی کنویں کے پانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہلایا گیا، جو کنواں سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کا پانی پیا کرتے تھے۔( دلائل النبوة للبیهقي : ۷؍۲۴۵، طبقات ابن سعد : ۲؍۲۸۰۔) 3۔....کفن کے لیے پہلے جو کپڑا انتخاب کیا کیا گیا تھا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی یمن کی بنی ہوئی ایک چادر تھی لیکن بعد کو اتار لی گئی۔( صحیح مسلم، کتاب الجنائز، ص ۲۰۔) اور تین سوتی سفید کپڑے جو سحول کے بنے ہوئے تھے کفن میں دیے گئے ان میں قمیص اور عمامہ نہ تھا۔( صحیح بخاري، کتاب الجنائز، رقم : ۱۲۶۴، صحیح مسلم، سنن ابي داود، کتاب الجنائز، رقم : ۴۵، دلائل النبوة للبیهقي : ۷؍۲۴۷، طبقات ابن سعد : ۲؍۲۸۲۔) 4۔....مدینہ میں دو صاحب قبر کھودنے میں ماہر تھے، حضرت ابوعبیدہ جراح اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہما، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اہل مکہ کے دستور کے مطابق صندوقی قبر کھودتے تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے رواج کے مطابق لحدی۔ لوگوں میں اختلاف پیش آیا کہ کس قسم کی قبر کھودی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اختلاف مناسب نہیں۔ دونوں صاحبوں کے پاس آدمی بھیجا جائے۔( سنن ابن ماجة، کتاب الجنائز، رقم : ۱۵۵۷۔) جو پہلے آجائے۔ لوگوں نے اس رائے کو پسند کیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دونوں صاحبوں کے پاس آدمی بھیجے۔ اتفاق یہ کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ تھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ہی مدینہ کے رواج کے مطابق قبر کھودی جو لحدی یعنی بغلی تھی۔ چونکہ زمین نم تھی اس لیے جس بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی وہ قبر میں بچھا دیا گیا۔ 5۔....جنازہ تیار ہوگیا تو لوگ نماز کے لیے ٹوٹے (جنازہ حجرے کے اندر تھا، باری باری سے لوگ تھوڑے تھوڑے کرکے جاتے تھے) پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچوں نے اور پھر غلاموں نے نماز پڑھی لیکن کوئی امام نہ تھا۔( البدایة والنهایة : ۵؍۲۳۲، طبقات ابن سعد : ۲؍۲۹۱، تاریخ الطبري : ۳؍۲۱۳۔) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ پر یہ دعا پڑھی جاتی تھی: ((إن الله وملائکته یصلون علی النبی یایها الذین امنوا صلوا علیه وسلموا تسلیما۔ اللهم ربنا لبیك وسعدیك صلوة الله البر الرحیم والملائکة المقربین والنبیین والصدیقین والصالحین وما سبح لك من شیء یا رب العالمین علی محمد بن عبد الله خاتم النبیین وسید المرسلین وإمام المتقین ورسول رب العالمین الشاهد المبشر الداعي بإذنك السراج المنیر وبارك علیه وسلم۔))( مواهب اللدنیا، زرقانی، ۸؍۲۹۳، مطبوعہ ازہریہ مصریہ ۱۳۲۸ھـ۔) 6۔....پھر بالآخر بدھ کی رات آپ کو قبر کے حوالے کردیا گیا۔( السیرة لإبن هشام : ۴؍۴۱۸۔) جسم مبارک کو حضرت علی، فضل بن عباس (اسامہ بن زید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا۔( سنن ابي داود، کتاب الجنائز، رقم : ۳۲۰۹۔) نفسي الفداء لقبر أنت ساکنه فیه العفاف وفیه الجود والکرم ’’میری جان فدا ہو اس قبر پاک پہ جس میں تو آسودہ خاک ہے۔ اس قبر پاک میں پاکباز اور صاحب جود و سخا ہستی آرام فرما ہے۔‘‘ وہ کتنے ہی درد انگیز لمحات ہوں گے جب سید الانبیاء والمرسلین کو قبر کے حوالے کیا جارہا ہوگا۔ اس انتہائی درد انگیز وقت کا تصور کرکے کوئی مسلمان اپنے آنسو ضبط نہیں کرسکتا۔ آئیے ہم آپ کی پیاری محبوب بیٹی سیّدۃ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے الفاظ میں اس طرح اظہار ملال کریں اور آنکھوں سے ساون کی جھڑی لگائیں : أُغْبِرَّ آفَاقُ السَّمَاءِ وَکُوِّرَتْ شَمْسُ النَّهَارِ وَأَظْلَمَ الْعَصْرَانِ وَالْأَرْضُ مِنْ بَعْدِ النَّبِیِّ أَسَفًا عَلَیْهِ کَثِیْرَةُ الرَّجْفَانِ فَلْیُبْکِهِ شَرْقُ الْبِلَادِ وَغَرْبُہَا وَلْیُبْکِهِ مُضَرٌ وَکُلُّ یَمَانِ وَلْیُبْکِهِ الطَّوْدُ الْمُعَظَّمُ جَوْهٌ وَالْبَیْتُ ذوْالْأَسْتَارِ وَالْأَرْکَانِ یَا خَاتَمَ الرُّسُلِ الْمُبَارَكِ ضَوْئُهُ یَا فَخْرَ مَنْ طَلَعَتْ لَهُ النِّیْرَانُ صَلّٰی عَلَیْكَ مُنْزِلُ الْقُرْآنِ ’’آسمانوں کے کنارے غبار آلود ہوگئے، دن کو طلوع ہونے والا سورج لپیٹ دیا گیا۔ دن رات کی طرح ہوگئے۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد زمین بھی کانپ رہی ہے اور اظہار غم میں پیش پیش ہے۔ مشرق و مغرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روئیں اور قریشی و یمنی مل کر آنسو بہائیں۔ مقدس فضا والا طور پہاڑ، غلافوں اور رکنوں والا بیت اللہ آپ پر نوحہ کریں۔ اے آخری رسول و نبی جن کا نور بابرکت اور روز افزوں تھا! قرآن نازل کرنے والا آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔‘‘( الروض الأنف للسهیلي : ۴؍۲۷۵۔)
تخریج : سنن ابي داود، کتاب الجنائز، باب کم یدخل القبر، رقم : ۳۲۰۹، سنن الکبریٰ للبیهقي : ۴؍۵۳، مسند ابي یعلی، رقم : ۲۳۶۷، مصنف ابن ابی شیبة، رقم : ۱۱۶۴۴۔ 1۔....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی خدمت خاص اعزہ و اقارب نے انجام دی۔ فضل بن عباس اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے پردہ کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی موقع پر موجود تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ان ہی نے پردہ بھی کیا تھا چونکہ اس شرف میں ہر شخص شریک ہونا چاہتا تھا۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اندر سے کواڑ بند کرلیے تھے۔ انصار نے دروازہ پر آواز دی کہ اللہ کے لیے ہمارے حقوق کا بھی خیال رکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جیسا کہ واقدی کا بیان ہے۔ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس کا حق نہیں ہے، اس لیے اگر سب کو اجازت دی گئی تو کام رہ جائے گا لیکن (انصار کے اصرار پر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اوس ابن خولی انصاری رضی اللہ عنہ کو جو اصحابِ بدر میں تھے اندر بلالیا، وہ پانی کا گھڑا بھر بھر کر لاتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جسم مبارک کو سینے سے لگا رکھا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں صاحبزادے قثم اور فضل رضی اللہ عنہما جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اوپر سے پانی ڈالتے تھے۔( طبقات ابن سعد : ۲؍۲۸۰۔) 2۔....قباء کے ’’غرس‘‘ نامی کنویں کے پانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہلایا گیا، جو کنواں سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کا پانی پیا کرتے تھے۔( دلائل النبوة للبیهقي : ۷؍۲۴۵، طبقات ابن سعد : ۲؍۲۸۰۔) 3۔....کفن کے لیے پہلے جو کپڑا انتخاب کیا کیا گیا تھا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی یمن کی بنی ہوئی ایک چادر تھی لیکن بعد کو اتار لی گئی۔( صحیح مسلم، کتاب الجنائز، ص ۲۰۔) اور تین سوتی سفید کپڑے جو سحول کے بنے ہوئے تھے کفن میں دیے گئے ان میں قمیص اور عمامہ نہ تھا۔( صحیح بخاري، کتاب الجنائز، رقم : ۱۲۶۴، صحیح مسلم، سنن ابي داود، کتاب الجنائز، رقم : ۴۵، دلائل النبوة للبیهقي : ۷؍۲۴۷، طبقات ابن سعد : ۲؍۲۸۲۔) 4۔....مدینہ میں دو صاحب قبر کھودنے میں ماہر تھے، حضرت ابوعبیدہ جراح اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہما، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اہل مکہ کے دستور کے مطابق صندوقی قبر کھودتے تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے رواج کے مطابق لحدی۔ لوگوں میں اختلاف پیش آیا کہ کس قسم کی قبر کھودی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اختلاف مناسب نہیں۔ دونوں صاحبوں کے پاس آدمی بھیجا جائے۔( سنن ابن ماجة، کتاب الجنائز، رقم : ۱۵۵۷۔) جو پہلے آجائے۔ لوگوں نے اس رائے کو پسند کیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دونوں صاحبوں کے پاس آدمی بھیجے۔ اتفاق یہ کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ تھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ہی مدینہ کے رواج کے مطابق قبر کھودی جو لحدی یعنی بغلی تھی۔ چونکہ زمین نم تھی اس لیے جس بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی وہ قبر میں بچھا دیا گیا۔ 5۔....جنازہ تیار ہوگیا تو لوگ نماز کے لیے ٹوٹے (جنازہ حجرے کے اندر تھا، باری باری سے لوگ تھوڑے تھوڑے کرکے جاتے تھے) پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچوں نے اور پھر غلاموں نے نماز پڑھی لیکن کوئی امام نہ تھا۔( البدایة والنهایة : ۵؍۲۳۲، طبقات ابن سعد : ۲؍۲۹۱، تاریخ الطبري : ۳؍۲۱۳۔) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ پر یہ دعا پڑھی جاتی تھی: ((إن الله وملائکته یصلون علی النبی یایها الذین امنوا صلوا علیه وسلموا تسلیما۔ اللهم ربنا لبیك وسعدیك صلوة الله البر الرحیم والملائکة المقربین والنبیین والصدیقین والصالحین وما سبح لك من شیء یا رب العالمین علی محمد بن عبد الله خاتم النبیین وسید المرسلین وإمام المتقین ورسول رب العالمین الشاهد المبشر الداعي بإذنك السراج المنیر وبارك علیه وسلم۔))( مواهب اللدنیا، زرقانی، ۸؍۲۹۳، مطبوعہ ازہریہ مصریہ ۱۳۲۸ھـ۔) 6۔....پھر بالآخر بدھ کی رات آپ کو قبر کے حوالے کردیا گیا۔( السیرة لإبن هشام : ۴؍۴۱۸۔) جسم مبارک کو حضرت علی، فضل بن عباس (اسامہ بن زید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا۔( سنن ابي داود، کتاب الجنائز، رقم : ۳۲۰۹۔) نفسي الفداء لقبر أنت ساکنه فیه العفاف وفیه الجود والکرم ’’میری جان فدا ہو اس قبر پاک پہ جس میں تو آسودہ خاک ہے۔ اس قبر پاک میں پاکباز اور صاحب جود و سخا ہستی آرام فرما ہے۔‘‘ وہ کتنے ہی درد انگیز لمحات ہوں گے جب سید الانبیاء والمرسلین کو قبر کے حوالے کیا جارہا ہوگا۔ اس انتہائی درد انگیز وقت کا تصور کرکے کوئی مسلمان اپنے آنسو ضبط نہیں کرسکتا۔ آئیے ہم آپ کی پیاری محبوب بیٹی سیّدۃ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے الفاظ میں اس طرح اظہار ملال کریں اور آنکھوں سے ساون کی جھڑی لگائیں : أُغْبِرَّ آفَاقُ السَّمَاءِ وَکُوِّرَتْ شَمْسُ النَّهَارِ وَأَظْلَمَ الْعَصْرَانِ وَالْأَرْضُ مِنْ بَعْدِ النَّبِیِّ أَسَفًا عَلَیْهِ کَثِیْرَةُ الرَّجْفَانِ فَلْیُبْکِهِ شَرْقُ الْبِلَادِ وَغَرْبُہَا وَلْیُبْکِهِ مُضَرٌ وَکُلُّ یَمَانِ وَلْیُبْکِهِ الطَّوْدُ الْمُعَظَّمُ جَوْهٌ وَالْبَیْتُ ذوْالْأَسْتَارِ وَالْأَرْکَانِ یَا خَاتَمَ الرُّسُلِ الْمُبَارَكِ ضَوْئُهُ یَا فَخْرَ مَنْ طَلَعَتْ لَهُ النِّیْرَانُ صَلّٰی عَلَیْكَ مُنْزِلُ الْقُرْآنِ ’’آسمانوں کے کنارے غبار آلود ہوگئے، دن کو طلوع ہونے والا سورج لپیٹ دیا گیا۔ دن رات کی طرح ہوگئے۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد زمین بھی کانپ رہی ہے اور اظہار غم میں پیش پیش ہے۔ مشرق و مغرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روئیں اور قریشی و یمنی مل کر آنسو بہائیں۔ مقدس فضا والا طور پہاڑ، غلافوں اور رکنوں والا بیت اللہ آپ پر نوحہ کریں۔ اے آخری رسول و نبی جن کا نور بابرکت اور روز افزوں تھا! قرآن نازل کرنے والا آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔‘‘( الروض الأنف للسهیلي : ۴؍۲۷۵۔)